کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی دلیری کا اعتراف ہندوستانی بریگیڈ کمانڈر نے بھی کیا

 کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بلندی پر اہم پوزیشنز قائم کیں اور دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنایا
اسلام آباد(آن لائن)کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر)قربانی، جرات اور لازوال بہادری کی داستانپاکستان کی عسکری تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لیے جرات اور قربانی کی علامت بن گئے انہی ناموں ایک نمایاں نام کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا ہے۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو 1999 کی کارگل جنگ میں غیر معمولی بہادری دکھانے پر پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا کارگل کے محاذ پر کیپٹن کرنل شیر خان کو لائن آف کنٹرول کے قریب نادرن لائٹ انفنٹری میں تعینات کیا گیا آپ کو انتہائی دشوار اور بلند پہاڑی علاقے میں دشمن کے خلاف دفاعی اور جوابی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی گئی۔ کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بلندی پر اہم پوزیشنز قائم کیں اور دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنایا5 جولائی 1999 کو شدید لڑائی کے دوران آپ اپنی پوسٹ کے دفاع میں ڈٹے رہے دشمن کی شدید فائرنگ اور عددی برتری کے باوجود آپ نے نہ صرف پیچھے ہٹنے سے انکار کیا بلکہ آخری لمحے تک اپنی پوزیشن کا دفاع بھی کیا۔کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے اس دلیرانہ اقدام نے دشمن کے قدم اکھاڑ دئیے اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس معرکے میں کیپٹن کرنل شیر خان دشمن کے سنائپر فائر کی زد میں آکر ساتھیوں کے ہمراہ شہادت کے اعلی مقام پر فائز ہو گئے۔کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی بے خوفی اور دلیری کا اعتراف ہندوستانی بریگیڈ کمانڈر نے بھی کیا۔