پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں انسانی اور مذہبی پہلو سے اہمیت رکھتا ہے۔
48 سالہ بھارتی خاتون سربجیت کور نے 4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام بدل کر نور فاطمہ رکھ لیا۔اسلام قبول کرنے کے بعد سربجیت نے شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے پسند کی شادی کرلی اور پاکستان میں قیام اختیار کرلیا۔آج انہیں واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت واپس بھیجنے کا منصوبہ تھا، تاہم سفری کاغذات میں تکنیکی مسائل کے سبب ان کی واپسی ممکن نہ ہو سکی۔اب امکان ہے کہ انہیں 6 جنوری کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارت بھیجا جائے گا۔
سربجیت کور کو فی الحال دارالامان میں رکھا گیا ہے اور بھارتی حکام کے حوالے کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق 2016 میں سوشل میڈیا کے ذریعے ناصر حسین سے ان کا رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد رشتہ قائم ہوا اور شادی کے مراحل طے ہوئے۔یہ معاملہ انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور بین الاقوامی سفارتی امور کے نازک پہلو رکھتا ہے، جس کی وجہ سے واہگہ پر دونوں ممالک کے حکام محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔