لاہور ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والی کرن شاہین کو دارالامان بھیجنے سے متعلق سیشن جج کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لڑکی کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ کرن شاہین اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہ سکتی ہے اور اسے غیر معینہ مدت تک دارالامان میں رکھنا قانونی جواز سے محروم ہے۔جسٹس خالد ابنِ عزیز نے سیشن جج کے فیصلے کے خلاف دائر فوجداری نظرثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے کرن شاہین کے والدین شیر باز اور صفینہ خاتون کی جانب سے دائر فوجداری نظرثانی منظور کر لی، جبکہ والد احمد شیر کی رٹ پٹیشن خارج کر دی۔عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 552 کے تحت کسی لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا اختیار موجود نہیں۔ سیشن جج نے کرن شاہین کو دارالامان بھیجنے کے حکم میں قانونی اختیار اور متعلقہ قوانین کا درست اطلاق نہیں کیا۔لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے اطلاق کا بھی جائزہ لیا اور قرار دیا کہ مذکورہ قانون 11 مئی 2026 کو نافذ ہوا، جبکہ کرن شاہین کا نکاح 18 اپریل 2026 کو ہوا تھا۔ اس لیے نکاح کے وقت یہ قانون نافذ العمل نہیں تھا اور اس کا اطلاق ماضی میں ہونے والے نکاح پر نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کے مطابق کرن شاہین نے مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے اور اسے اغوا نہیں کیا گیا۔ اس نے متعدد مرتبہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جب لڑکی بار بار اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنے کا بیان دے چکی تھی تو اس کے بعد اسے مزید غیر معینہ مدت تک دارالامان میں رکھنے کی کوئی قانونی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی۔ سیشن جج کے حکم میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا تھا کہ کرن شاہین کو کتنے عرصے تک دارالامان میں رکھا جائے گا۔لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی مبینہ نابالغ لڑکی اپنی عمر سے متعلق دعوے کی تردید کرے تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 552 کے تحت کارروائی روک دینی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون کے مطابق قانونی سرپرست بھی کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف محبوس رکھنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
واضح رہے کہ کرن شاہین کے نکاح نامے میں اس کی عمر 18 سال درج تھی، جبکہ اس کے والد کی جانب سے اغوا کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ بعد ازاں پسند کی شادی کے معاملے پر عدالتی کارروائی کے دوران اسے دارالامان بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا، جسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔