پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث کراچی ایئرپورٹ کے طیاروں کیلئے مخصوص جیولیٹ ٹیکسی وے پر ایک تربیتی طیارہ حادثے سے بال بال بچا۔
ذرائع کے مطابق، تربیتی طیارہ اڑان بھرنے کیلئے ٹیکسی وے سے رن وے کی طرف جا رہا تھا، کہ اچانک ٹیکسی وے پر لوہے کی دھات کے ٹکڑے کی وجہ سے طیارے کا ٹائر پھٹ گیا۔واقعے کے دوران، کپتان نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایمرجنسی بریک لگاکر طیارے کو کنٹرول کیا، جس کے نتیجے میں بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا۔ تاہم، اس حادثے سے نجی ایوی ایشن کمپنی کو پانچ لاکھ روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا۔بانی ایئرکرافٹس اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن، عمران اسلم خان نے اس واقعے کے حوالے سے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو تحریری طور پر آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسی وے پر لوہے کے ٹکڑے فلائٹ سیفٹی کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اور اس طرح کے واقعات طیاروں کے بڑے حادثوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ عمران اسلم خان نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی سے فوری طور پر اقدامات کرنے کی درخواست کی تاکہ ایئرپورٹ پر اس قسم کی صورتحال سے بچا جا سکے اور فلائٹ سیفٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔