بالی ووڈ کے نامور اداکار راج پال یادو کو دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے چیک باؤنس کیسز میں مہلت کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد جمعرات کو تیہار جیل میں حاضری کے لیے خود پیش ہونا پڑا۔
بھارتی فلم انڈسٹری میں مزاحیہ کرداروں کے لیے مشہور راج پال یادو نے اپنے کیریئر کے دوران بھول بھلیاں، ہنگامہ، ڈھول، چھپ چھپ کے، پھر ہیرا پھیری اور کل ہو نہ ہو سمیت کئی بلاک بسٹر فلموں میں کام کیا ہے۔اداکار کو عدالت نے 2 فروری کو حکم دیا تھا کہ وہ 4 فروری تک جیل حکام کے سامنے پیش ہوں۔ ان کے وکیل نے عدالت سے کہا تھا کہ راج پال یادو نے 50 لاکھ روپے کا انتظام کر لیا ہے اور ایک ہفتے کی مزید مہلت چاہتے ہیں تاکہ ادائیگی مکمل ہو سکے، لیکن جسٹس سوارنا کانتا شرما نے مہلت کی درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ کوئی بنیاد نہیں ہے۔جمعرات کو شام 4 بجے راج پال یادو نے خود کو تیہار جیل کے حکام کے سامنے پیش کیا، جہاں جیل حکام معیاری کارروائی کے مطابق انہیں حراست میں لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اپریل 2018 میں راج پال یادو کو قرضہ لینے اور مقررہ وقت پر ادائیگی نہ کرنے پر چھ ماہ قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد انہیں فوری ضمانت بھی دی گئی۔ جون 2024 میں ہائی کورٹ نے ان کی سزا عارضی طور پر معطل کی تھی، بشرطیکہ وہ مخالف فریق کے ساتھ دوستانہ تصفیے کی کوشش کریں۔رپورٹس کے مطابق اداکار نے کسی تاجر سے اپنی فلم کے لیے 5 کروڑ روپے قرضہ لیا تھا، جس کی بروقت ادائیگی نہ ہونے پر تاجر نے قانونی کارروائی کی تھی۔