لاہور: بسنت کا رنگا رنگ آغاز ،جشن کا سماں
جھنڈوں، پتنگوں، گڈوں ،ڈور ،سجاوٹی سامان سے جشن کا سماں، لذیذ پکوان تیار، کیو آر کوڈ کے بغیر پتنگیں ،ڈوریں بلیک میں فروخت، خلاف ورزی پر سینکڑوں گرفتار،دوسرے شہروں سے بھی پتنگ باز بسنت منانے لاہور پہنچ گئے،انتظامیہ کی چھٹی کی تجویز مسترد
لاہور ،راولپنڈی (کرائم رپورٹر،خصوصی رپورٹ )لاہور میں آج 6فروری سے بسنت کا میلہ سج دھج کے ساتھ شروع ہوگیا،7اور 8فروری تک جاری رہنے والے رنگوں اور خوشیوں بھرے تہوار کے شروع ہوتے ہی پتنگیں اور گڈے اڑانے والوں کا چھتوں پر ’’بو کاٹا ‘‘کا شور، شہریوں کا جوش و خروش دیدنی ، تہوار خوشگوار اور محفوظ ماحول میں منائے جانے کیلئے سلامتی کی دعائیں کی جا رہی ہیں۔دوسری طرف لاہور سمیت پنجاب بھر میں انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 153 ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ راولپنڈی میں کٹی پتنگ کی دھاتی ڈور پھرنے سے 2 بھائیوں کے زخمی ہو نے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر سے رپورٹ طلب کر لی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں بسنت کا تین روزہ تہوار شروع ہوتے ہی خوشی، رنگوں اور جشن کا سماں قائم ہو چکا،دوسرے شہروں سے بھی پتنگ بازی کے شوقین یہاں پہنچ چکے ہیں، رنگ برنگے جھنڈوں، پتنگوں، گڈوں ،ڈور اور سجاوٹی سامان نے چھتوں کو خوشیوں کا مرکز بنا دیا، بسنت کے میزبانوں کی طرف سے رشتہ داروں اور دوست احباب کی خاطر تواضع کیلئے لذیذ پکوانوں کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔فضاء میں رنگ برنگی پتنگوں اور گڈ وں نے رنگ بکھیر دیئے۔ ادھر ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ ہے،بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں ،پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات ، کسی شخصیت کی تصویر ،کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر پر پابندی عائد ہے،مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد ہے۔لاہور میں بسنت کے دوران بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گڈا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔ ترجمان محکمہ داخلہ نے کہا کہ حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی ہے،بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی ،لاہور میں بسنت کے دوران موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈ کا استعمال لازم ہے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں ، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان قریبی رابطہ برقراررکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ریسکیو 1122کو مکمل الرٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔بسنت کے موقع پر بغیر کیو آر کوڈ کے پتنگیں، ڈور کے پنے اور غیر قانونی چرخیاں لاہور پہنچ گئیں، انتظامی اور مانیٹرنگ نظام پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے۔ذرائع کے مطابق کیو آر کوڈ کے بغیر پتنگیں اور ڈوریں بلیک میں فروخت ہونے لگیں،۔بغیر کیو آر کوڈ والی پتنگیں اڑیں تو مانیٹرنگ کیسے ہوگی؟ کیو آر کوڈ کے بغیر استعمال سے سرکاری ڈیٹا نامکمل ہونے کا خدشہ ہے، رات کے وقت اڑنے والی پتنگوں کی نگرانی کا کوئی مئوثر نظام موجود نہیں۔کیمیکل اور مانجھا لگی ڈوروں کی بروقت نشاندہی کیسے ممکن ہوگی؟ ۔دریں اثناء پنجاب پولیس کا انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف کریک ڈائون جاری ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں 141 مقدمات درج کرکے 153 ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ،اس دوران ملزموں کے قبضے سے غیر منظور شدہ 22 ہزار 753 پتنگیں اور 570 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔ لاہور میں غیر قانونی پتنگوں اور ڈور کے کاروبار میں ملوث 81 ملزم گرفتار کئے گئے جبکہ 2807 پتنگیں اور 202 ڈور چرخیاں برآمد ہوئیں۔ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ رواں سال اب تک ملوث 4171 ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں ۔ ترجمان کے مطابق پتنگ بازوں، مینوفیکچررز اور غیر قانونی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں گی ،لاہور میں بسنت کی اجازت صرف سخت حکومتی شرائط اور قوانین کے تحت مخصوص دنوں میں دی گئی ہے۔