لاہور میں 25 سال کے طویل وقفے کے بعد تین روزہ بسنت بہار کا آغاز ہو گیا ہے اور صوبائی دارالحکومت کے آسمان پر ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگیں لوٹ آئی ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بسنت کا جشن ذمہ داری کے ساتھ منائیں اور حفاظتی ایس او پیز پر مکمل عمل کریں تاکہ یہ تہوار سب کے لیے محفوظ ثابت ہو۔بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنی بسنت منانے کی ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ پتنگیں اڑاتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتی نظر آئیں۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ بسنت کے اس جشن میں ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی سے گریز کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے آسمان پر 25 سال بعد پتنگوں کی واپسی خوشی کا موقع ہے، جسے ذمہ داری کے ساتھ منانا ضروری ہے۔مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب اور پاکستان میں خوشی اور سکون کی فضا بحال ہونے پر وہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی شکر گزار ہیں، جن کی کوششوں سے یہ روایتی تہوار دوبارہ زندہ ہوا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بسنت کے دوران حفاظتی ایس او پیز پر مکمل عمل کریں اور اس تہوار کو ہر لحاظ سے محفوظ بنائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ بسنت کے دوران شہریوں کو مفت آمدورفت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ تینوں دن 419 بسیں عوام کی خدمت کے لیے دستیاب ہوں گی اور بسنت کے موقع پر 60 ہزار سے زائد فری رائیڈز دی جائیں گی۔ میٹرو بس، فیڈر بسیں اور گرین بسیں بھی فری ٹریول کی سہولت فراہم کریں گی۔ مریم نواز نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بائیک کے بجائے ہر روٹ پر دستیاب مفت پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں۔وزیراعلیٰ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ بسنت کے موقع پر حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مقررہ سائز اور معیار کے مطابق پتنگیں اور ڈور استعمال کی جائیں، جبکہ ممنوعہ ڈور کے استعمال پر بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھاتی تار، تندی، بلٹ پروف مٹیریل اور چرخی کا استعمال غیر قانونی ہے اور اس پر بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔
مریم نواز نے واضح کیا کہ سول ایوی ایشن کے علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہو گی اور بائیک، موٹر سائیکل اور رکشے پر سیفٹی راڈ کا استعمال لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی چھتوں پر حفاظتی انتظامات کے بغیر پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق بسنت کے دوران تھرمل ڈرون کے ذریعے نگرانی جاری رہے گی، جبکہ پولیس، ٹریفک وارڈنز اور ضلعی انتظامیہ شہریوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے فیلڈ میں موجود رہے گی۔