سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور وہاں 20 سال تک خون بہایا لیکن آخرکار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے واضح طور پر کہا کہ کوئی بھی ملک غزہ پر قبضہ نہیں کر سکتا، اور ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی غزہ پر ہرزہ سرائی پر امتِ مسلمہ سراپا احتجاج ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ٹرمپ کے اس بیان پر واضح اور مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ قوم کے ضمیر کی ترجمانی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں کے لیے یہ ابہام ناقابلِ قبول ہے، اور انہیں اس حساس معاملے پر اپنے موقف کا صاف اعلان کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے عرب لیگ کے موقف کو سراہا جس نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کیا اور اس معاملے پر امت مسلمہ کے ساتھ یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کا حق ہے کہ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے جنگ لڑیں اور ان کی جدوجہد کی حمایت پوری امتِ مسلمہ کو کرنی چاہیے۔انہوں نے فلسطینیوں کی مالی معاونت کے لیے قوم سے اپیل کی اور کہا کہ اسرائیل ایک صیہونی قبضہ ہے جسے فلسطینیوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین پر فلسطینیوں کا حق ہے اور پوری امتِ مسلمہ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔