پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن سمجھتے تھے کہ ان کے بغیر کوئی حکومت نہ بن سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں ان کے بغیر بھی حکومت بنی ہے اور چلتی رہے گی۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک سینئر سیاستدان ہیں اور انہیں ان سے ایسی گفتگو کی توقع نہیں تھی۔ ان کے بقول مولانا کی گزشتہ روز کی تقریر سے انہیں بہت مایوسی ہوئی۔
گورنر راج پر مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف سے اختلاف
فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں آزادانہ طور پر گھوم پھر نہیں سکتے اور صوبائی حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔گورنر خیبر پختونخوا کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے گورنر راج کے نفاذ کو غلط قرار دیا ہے، تاہم فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے کوششیں نہیں کر رہی، یہ کہنا درست نہیں۔
سابق حکومت کے فیصلوں سے متعلق دعویٰ
میڈیا سے گفتگو میں فیصل کریم کنڈی نے سابق صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بعض حکومتی فیصلے اسلام آباد کے بجائے کابل اور قندھار سے آتے تھے۔انہوں نے الزام لگایا کہ سابق حکمرانوں کے بعض مفرور عناصر سرحد پار بیٹھ کر لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔ ان بیانات کے حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے پر زور
گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کے معدنی وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لکی مروت، ٹانک اور بنوں سمیت مختلف علاقوں میں موجود وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جانے چاہییں۔فیصل کریم کنڈی کے مطابق غیر ملکی کمپنیاں، پاکستانی کاروباری ادارے اور خیبر پختونخوا حکومت مشترکہ منصوبوں کے ذریعے صوبے میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
امن و امان پر سمجھوتا نہیں ہوگا
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق دیگر معاملات پر بات چیت اور مشاورت کی گنجائش موجود ہے، لیکن امن کے معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔