سید منیر حسین گیلانی
کرہ ارض پر انسان ارتقائی منازل طے کرتا ہوا حیوانی زندگی سے نکل کرمختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے ساتھ رہنے والی مدنی زندگی میں داخل ہوا تو اس نے معاشرے کو پرامن بنانے کا عہد کیا لیکن جوں جوں انسان عقل و بصیرت اور علم کی منزل طے کرتا ہوا آگے بڑھا تو طاقت کے نشے اور دوسروں کو طاقت سے زیر کرنے کی خواہش نے اسے پرانی روش کو اختیار کرنے پر مجبور کرلیا،بقائے باہمی اور امن کی بجائے قتل و غارت ،دوسروں کے حقوق غصب کرنا، املاک کو نقصان پہنچانا ، وسائل پر قبضہ کرنا اور ظلم و استبداد کا ناجائز راستہ اختیار کر نا، اس کی عادت بن گئی۔ ہماری زندگی میں آج کے دور سے پہلے ویسے تو کئی جنگیں لڑی گئیں، لیکن دو بڑی جنگیں عالمی جنگ اول اوردوئم لڑی گئیں،جن میں لاکھوں انسانوں کو قتل اورجلا وطن کیا گیا۔یہ بھی انسانی تاریخ کا سیاہ کن باب ہے۔ لیکن اس کے آگے دیکھیں تو امریکہ جیسی بڑی طاقت اور اسرائیل جیسی شیطانی حیوانی ناجائز صیہونی حکومت نے بھی وہی راستہ اختیار کیا کہ دنیا میں امن قائم نہ ہو سکے۔ لیکن افسوسناک بات اور ظلم یہ ہے کہ دنیا کے آج کے مہذب معاشروں میں یہ سکت نظر نہیں آرہی کہ وہ کسی جارح کی جارحیت کو روک سکے یا اس کے خلاف محاذ بنا کر مقابلہ کرنے کی کوشش کرے۔ ابھی چند ماہ پہلے اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے اس کی اہم حکومتی،سیاسی، سماجی اور سائنسی شخصیات کو شہید کیا،اورامن ایٹمی اثاثوں کو نقصان پہنچایا۔لیکن کسی نے بھی جارحیت کے مقابلے کی جرات کی اور نہ ہی کوئی ایران کے ساتھ کھل کر کھڑا ہوا۔ بلکہ عالمی سفارتی قوانین اور اخلاقیات سے عاری امریکہ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے دوران بھی ایرانی سرزمین پر حملہ کیا ،جس کا جواب ایران نے نہ صرف اسرائیل کے ساتھ 12روزہ جنگ میں دیا ، بلکہ قطر میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بھی بنایا،مگرتلخ حقیقت ہے کہ آج کی مہذب دنیا میں کسی نے بھی اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ اقدامات کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال کا نہ صرف عندیا نہیںدیا ، بلکہ مذمت تک نہیں کی۔پھر کچھ ہی عرصے بعد اسرائیل نے امریکہ کے اتحادی دوست قطر پر بھی حماس کی قیادت کو قتل کرنے کی غرض سے فلسطین کی مزاحمتی تحریک کے بیرون ملک دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کے نتیجے میں قطری شہری اور حماس کے مہمانوں کو شہید کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے نومنتخب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ کو نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ غزہ میںحماس اور اسرائیل کی لڑائی میں جس بریت کا مظاہرہ یہودی صیہونی حکومت نے کیا نہ صرف قابل مذمت ، بلکہ اس معاشرے کے چہرے پر شرمندگی کا بدنما داغ بھی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران تقریروں میں امن کا مسیحا بننے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے تھے۔پھر صدرمنتخب ہونے کے بعد سے اب تک ٹرمپ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ
رکوانے کا بار بار تذکرہ کرتے اور امن کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتے اور توقع رکھتے ہیں کہ امن کا نوبل ایوارڈ اسے دیا جائے اور اس کے بار بار تذکرے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔میرا تو خیال ہے کہ اسرائیلی سرپرستی اور 80 ہزار کے قریب فلسطینیوں کے قتل عام کی سرپرستی پر امریکی صدر کو اگر کوئی منافقت اور ظلم و بربریت کاایوارڈ ہوتو اسے دیا جائے، امن ایوارڈ کا تو یہ کوئی حق دار نہیں، حالانکہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور اسرائیلی دہشت گرد نیتن یاہو کی خواہش یہی ہے۔امریکی صدر نے خصوصاً غزہ میں سیز فائر کی کوشش کی تھی، اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بد نیتی پرمبنی اسرائیلی سرپرستی واضح طور پر نظر آرہی تھی۔ دوسری طرف حزب اللہ لبنان کے سربراہ سیدحسن نصراللہ، ہاشم صفی الدین اور ان کے ساتھیوں کو بھی شہید کیا گیا۔انصار اللہ یمن پر بھی حملے کئے گئے۔اتنے بڑے مظالم سے عالمی طاقتوں اوراداروں کی خاموشی سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں رہنے والے انسانوں کے زبانیں گنگ ہو چکی ہیں، بڑے ممالک کے فوجی بھی کسی اندھیرے میں گم ہو چکے ہیں، کوئی بھی ملک بے تحاشاوسائل رکھنے کے باجودکوئی ایسا اقدام اٹھانے کو تیار نہیں جس سے امریکہ اور اس کے پالتو اسرائیل کے مظالم کو روکا جاسکے۔ ابھی چند دن پہلے لبنان کے بارڈر پر امن کے نام سے سیز فائرکے باوجودحزب اللہ لبنان کے کمانڈرہیثم علی طباطبائی کی شہادت اسرائیلی بربریت اور امریکی سرپرستی کا ثبوت ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص جماعت یا گروہ نہیں ہے، اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے بازو کومروڑ کر توڑ سکے۔ ان واقعات کے سامنے ان واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ نیتن یاہو اور امریکی صدر خطے کو پرامن نہیں رہنے دیں گے اور گاہے بگاہے مختلف ممالک کے اندر تخریبی عناصر کی سرپرستی کرکے انتشار پیدا کریں گے۔ کاش! امت مسلمہ میں کوئی ایک فرد بھی ٹرمپ اور نتن یاہو کو للکارتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کا پیش خیمہ بنے۔اگر یہی صورتحال رہی تو صرف مشرق وسطی ہی نہیں پوری دنیا میں تیسری جنگ عظیم کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ میںسمجھتا ہوں کہ لبنان کی قیادت ،فلسطینی بے گھر ،نادار لوگ ظلم سے نبرد آزما ہوں گے اور اپنے ساتھیوں کی شہادت کا بدلہ بھی لیں گے۔۔۔END۔۔۔۔