غزہ میں طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن دیکھتا ہوں، غزہ کو ترقی ،علاقے کے لوگوں کو ملازمتیں دیں گے ، نئے شہریوں کو بسائیں گے:اسرائیلی وزیر اعظم کیساتھ پریس کانفرنس
ٹرمپ کا غزہ منصوبہ نسل کشی کے مترادف ہے:سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ ‘غزہ پر کنٹرول کے اعلان سے شدید دھچکا لگا: آسٹریلوی وزیراعظم ‘ جبری بے دخلی کی مخالفت کرتے ہیں:چین
واشنگٹن ،غزہ (آئی این پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان کر دیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ہمراہ وائٹ ہائوس میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ امریکا غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لے گا، ہم اس کے مالک ہوں گے۔ جس کا مقصد اس علاقے میں استحکام لانا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں غزہ میں طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن دیکھتا ہوں، ہم غزہ کو ترقی دیں گے۔علاقے کے لوگوں کے لیے ملازمتیں دیں گے ، شہریوں کو بسائیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ فلسطینیوں کے لیے منصوبے کے تحت اردن اور مصر کے رہنما جگہ فراہم کریں گے۔ مشرق وسطی کے دیگر رہنمائوں سے بات ہوئی، انہیں فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنے کا آئیڈیا پسند آیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اپنے منصوبے کے بعد غزہ میں دنیا بھر کے لوگوں کو آباد ہوتے دیکھتا ہوں۔ میں اسرائیل، غزہ اور سعودیہ کا دورہ کروں گا، سعودی عرب بہت مددگار ثابت ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔ بہت سے ممالک جلد ہی ابراہام معاہدے میں شامل ہوں گے۔ٹرمپ نے بتایا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں ہم نے حماس کے خاتمے کو یقینی بنانے کے طریقے پر تبادلہ خیال کیا۔غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے اور اس پر قبضہ کرنے کا عمل انہی لوگوں کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔امریکی صدر نے کہا کہ میں ایران کے ساتھ ڈیل کرنا پسند کروں گا۔اگر لگا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تو یہ ان کی بدقسمتی کا باعث ہوگا۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ، جس کے تحت امریکا فلسطینی علاقے غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھالے گا، تاریخ بدل سکتا ہے‘ اقوام متحدہ ،آسٹریلیا اور سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر کنٹرول کے اعلان کومستردکردیا ہے ۔اقوا م متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو نسل کشی کے مترادف قرار دے دیا،سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے جبکہ آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر کنٹرول کے اعلان سے انہیں شدید دھچکا لگا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا غزہ کی آبادی کو منتقل کرنے اور فلسطینی علاقے کو ترقی دینے کا منصوبہ نسل کشی کے مترادف ہوگا۔ایکس پر ایک پوسٹ میں اقوام متحدہ کے بیورو چیف، فاسیہی نے بتایا کہ گوتریس نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے سے فلسطینی ریاست کو ہمیشہ کے لیے ناممکن بنانے کا خطرہ ہے۔چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں بتایا چین غزہ کے لوگوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کر تا ہے۔ترجمان نے کہا امید ہے فریقین جنگ بندی معاہدے پر کاربند رہیں گے۔ فلسطین کے مسئلے کو صحیح ٹریک پر لانے کا یہی موقع ہے۔ اس مسئلے کا سیاسی بنیادوں پر دو ریاستی حل ہی ممکن ہے۔