وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ابھی نرمی برتی ہے، میں ہوتا تو اس سے بھی سخت الفاظ استعمال کرتا۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات کے باوجود ہم نے بیرون ملک جا کر پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ایک خاندان ہے اور ہم اپنے جھگڑوں کو گھر کے باہر لے کر نہیں جاتے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے اداروں اور مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں کی جائے گی اور سب کو اپنے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔انہوں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ کے پی حکومت امن قائم کرنے میں اپنا آئینی کردار ادا کرے گی۔احسن اقبال نے تعمیراتی صنعت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برینڈ ملک کے طور پر دنیا میں نمایاں ہونا چاہیے اور مستقبل کی تمام تعمیرات میں گرین بلڈنگز کے معیار پر عمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے آنے کے وقت ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، لیکن آج اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آرہی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ 28 مئی کو قوم نے ثابت کیا کہ ہم ایک مضبوط قوم ہیں اور معرکہ حق کی کامیابی نے گرین پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے معاشی لانگ مارچ کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے تجربات سے سیکھنا اور باہمی تعاون ضروری ہے۔