ویب ڈیسک: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش دہشت گردی جیسے نظریاتی چیلنجز کا حل علامہ اقبالؒ کی فکر میں پوشیدہ ہے، جبکہ قوم میں فکری انتشار کی اصل وجہ فکرِ اقبال سے دوری ہے۔
بین الاقوامی اقبال کانفرنس سے خطاب
احسن اقبال ایوانِ اقبال میں منعقدہ بین الاقوامی اقبال کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ اقبال کی فکر کو اپنی رہنمائی کا ذریعہ بنائیں۔انہوں نے کہا:"اقبالؒ ہمیں صرف خواب نہیں دکھاتے بلکہ انہیں حقیقت بنانے کا حوصلہ اور مسلسل جدوجہد کا درس بھی دیتے ہیں۔"
اڑان پاکستان: اقبال کے افکار کی تعبیر
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے جو "اُڑان پاکستان" کا وژن اپنایا ہے، وہ دراصل اقبال کے افکار کی عملی تعبیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:"ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان دوبارہ سے سائنس دان، محقق، اور تخلیق کار بنیں، اور ستاروں پر کمند ڈالیں۔"
علم اور عمل کی جستجو ہی ترقی کا راستہ
احسن اقبال نے کہا کہ جو قومیں آزاد اور خود مختار ہوتی ہیں وہ وقت ضائع نہیں کرتیں، بلکہ علم اور عمل کے ذریعے اپنی تقدیر خود سنوارتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں ایسی قوم بننا ہے جو علم کی طلبگار ہو اور عمل میں بے مثال۔
فکرِ اقبال کا احیا وقت کی ضرورت ہے
وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ فکرِ اقبال کا احیا اسکول، کالج، یونیورسٹی اور قومی سطح پر کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا:"اقبالؒ کے فلسفے پر عمل کر کے ہم قوم کو فرقہ واریت، شدت پسندی اور انتشار سے نکال سکتے ہیں۔"آخر میں احسن اقبال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان علامہ اقبالؒ کے خوابوں کے مطابق ملک کو ترقی، اتحاد، اور جدید علم و تحقیق کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔