اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے آزاد کشمیر احتجاج کیس میں گرفتار سابق سینیٹر مشتاق احمد کے جسمانی ریمانڈ میں مزید چار روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 10 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر لاٹھیاں، لاؤڈ اسپیکرز اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دورانِ تفتیش دیگر مبینہ ملزمان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پراسیکیوشن نے عدالت سے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے صرف چار روزہ توسیع کی اجازت دی۔یاد رہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد کے خلاف تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج ہے۔ اسلام آباد پولیس نے انہیں یکم اگست کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی، بغیر اجازت ریلی نکالنے اور ہنگامہ آرائی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔عدالت کی جانب سے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے بعد تفتیشی ٹیم آئندہ چند روز کے دوران مزید شواہد اکٹھے کرے گی، جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 10 اگست کو ہوگی، جہاں تفتیشی پیش رفت عدالت کے سامنے پیش کی جائے گی۔