سیئول: جنوبی کوریا میں جاری شدید گرمی کی لہر نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں، جہاں ہیٹ ویو کے باعث 21 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا ہے، جبکہ کئی مقامات پر گزشتہ برسوں کے ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے ہیں۔ شدید گرمی کے باعث صحت کے مراکز پر مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عوام کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات مزید تیز کیے جائیں۔ حکومت نے مقامی انتظامیہ کو ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے خصوصی امدادی مراکز قائم کرنے اور طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بزرگ افراد، کھلے میدانوں میں کام کرنے والے مزدور، تعمیراتی کارکن اور کسان شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بعض دیہی علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈرونز کے ذریعے کسانوں کو گرمی سے بچاؤ، پانی کے استعمال اور احتیاطی تدابیر سے متعلق اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوپہر کے گرم ترین اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، پانی اور دیگر مشروبات کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور براہِ راست دھوپ میں طویل وقت گزارنے سے بچیں۔طبی ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی علامات میں شدید کمزوری، چکر آنا، جسم کا غیر معمولی حد تک گرم ہو جانا، تیز بخار، الجھن یا بے ہوشی شامل ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہونے پر متاثرہ شخص کو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ منتقل کرکے طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے مختلف خطوں کی طرح جنوبی کوریا بھی شدید گرمی کی لہروں کی لپیٹ میں آ رہا ہے، جس کے باعث آئندہ دنوں میں بھی غیر معمولی درجہ حرارت برقرار رہنے کا امکان ہے۔