جنوبی کوریا میں جاری شدید اور غیر معمولی گرمی کی لہر نے تباہی مچا دی ہے، جہاں اب تک کم از کم 16 افراد ہلاک جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق جنوبی کوریا نے حالیہ دنوں میں اپنی 122 سالہ موسمیاتی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا۔ جنوبی شہر یانگ سان میں درجہ حرارت 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو ملک کے لیے ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔دارالحکومت سیول میں پہلی مرتبہ انتہائی شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ صدر لی جے میونگ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ شدید گرمی سے متاثر ہونے والے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے امدادی اقدامات مزید تیز کیے جائیں، جبکہ بجلی کے نظام کی نگرانی بھی یقینی بنائی جائے۔ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا میں جاری گرمی کی شدت طاقتور ہائی پریشر سسٹمز اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے غیر معمولی موسمی حالات کا نتیجہ ہے۔حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، زیادہ پانی پینے، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے اور گرمی سے متعلق علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔