سلوان میں فلسطینی خاندانوں کے گھروں کی مسماری، اسرائیلی وکیل نے اسے نسلی صفائی قرار دے دیا

سلوان میں فلسطینی خاندانوں کے گھروں کی مسماری، اسرائیلی وکیل نے اسے نسلی صفائی قرار دے دیا

مقبوضہ بیت المقدس: مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے سلوان میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری اور زمینوں پر قبضے سے متعلق برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک معروف اسرائیلی وکیل نے فلسطینی شہریوں کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کرنے کی پالیسی کو نسلی صفائی کے مترادف قرار دیا ہے۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سلوان میں گھروں کی مسلسل مسماری کے خدشات نے فلسطینی خاندانوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ کئی خاندان مستقل خوف اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کہ ان کے گھر بھی کسی وقت مسمار کیے جا سکتے ہیں۔فلسطینی رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی حکام ان کے مکانات کو غیر قانونی تعمیرات قرار دے کر مسمار کر رہے ہیں، جبکہ ان کے مطابق تعمیراتی اجازت ناموں کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سلوان کا علاقہ مقبوضہ بیت المقدس میں سیاسی اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جہاں زمین اور رہائش سے متعلق تنازعات طویل عرصے سے جاری ہیں۔فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا گھروں کی مسماری اور بے دخلی کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں قانونی ضابطوں کے تحت کی جاتی ہیں۔