مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے سیشن میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بدھ کی ابتدائی تجارت میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 99.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.4 فیصد اضافے کے بعد 94.75 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔ یو اے ای مربن خام تیل کی قیمت 110.20 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔رپورٹس کے مطابق اگست کے آغاز سے اب تک برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی اہم سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران منگل کو کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے متعدد شہروں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ امریکی فورسز نے متعدد ایرانی آئل ٹینکرز کو بھی نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے اردن میں ایک امریکی اڈے پر حملے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق تازہ حملوں کے بعد خطے سے عالمی منڈی تک تیل کی سپلائی میں مزید رکاوٹوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ علاقائی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم بحری راستوں پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ING کے تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ امن مذاکرات کی بحالی میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر خطرے کا اضافی پریمیم برقرار رہنے کا امکان ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب پر حملے طویل عرصے تک جاری رہے تو عالمی منڈیوں تک خام تیل کی روانی برقرار رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔