عالمی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا، دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

عالمی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا، دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مسلسل تیسرے سیشن میں اضافے کے ساتھ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

 ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی کمزوری، خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور شرح سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سونے کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔بدھ کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.4 فیصد اضافے کے بعد 4,143.83 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 1 فیصد اضافے کے ساتھ 4,191.90 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث دیگر کرنسیوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے سونا نسبتاً سستا اور زیادہ پرکشش ہو گیا، جس سے اس کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں بھی مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ دو سیشنز کی نمایاں گراوٹ کے بعد برقرار رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور تیل کی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔ادھر قطر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں۔

او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق تیل اور سونے کی قیمتوں کے درمیان تعلق اب بھی برقرار ہے، کیونکہ خام تیل کی قیمتیں عالمی معیشت اور مہنگائی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید کم ہوتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔مارکیٹ میں اس وقت فیڈرل ریزرو کے 15 اور 16 ستمبر کے اجلاس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ تازہ اندازوں کے مطابق شرح سود میں اضافے کے امکانات 59 فیصد رہ گئے ہیں، جو ایک روز قبل 67 فیصد تھے۔ عام طور پر بلند شرح سود سونے کی کشش کم کر دیتی ہے کیونکہ یہ کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا، اگرچہ اسے مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے۔فیڈرل ریزرو بینک آف فلاڈیلفیا کی صدر اینا پالسن نے کہا ہے کہ وہ آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے تمام امکانات پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کر رہی ہیں، جن میں شرح سود میں اضافہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

سرمایہ کار اب امریکی معیشت کی سمت جانچنے کے لیے اے ڈی پی روزگار رپورٹ اور جمعہ کو جاری ہونے والی جولائی کی نان فارم پے رولز رپورٹ کے منتظر ہیں، جو آئندہ مالیاتی پالیسی کے حوالے سے اہم اشارے فراہم کر سکتی ہیں۔دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چاندی 2 فیصد اضافے کے بعد 60.70 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1 فیصد بڑھ کر 1,751.03 ڈالر فی اونس اور پیلیڈیم 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 1,360.25 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔