وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے ڈرنکنگ واٹر کی بوتلوں پر چارجز عائد کرنے کی ابتدائی تجویز مسترد کر دی۔
انہوں نے واضح ہدایت کی کہ عوام کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی ہر صورت فراہم کیا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے بہاولپور، رحیم یار خان، خوشاب اور ڈی جی خان میں جاری بوتل بند صاف پانی کے پائلٹ منصوبے کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوام سے مسلسل فیڈ بیک حاصل کیا جائے تاکہ منصوبے کی کارکردگی کا مؤثر جائزہ لیا جا سکے اور ضروری بہتری لائی جا سکے۔یہ ہدایات وزیراعلیٰ کی زیر صدارت صاف پانی اتھارٹی کے خصوصی اجلاس میں جاری کی گئیں، جہاں ٹینکرز کے ذریعے گھر گھر صاف پانی پہنچانے کی تجاویز اور سفارشات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں چاروں اضلاع میں روزانہ پانی کی ضرورت کا تخمینہ لگانے اور فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 864 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ مزید 1,886 واٹر فلٹریشن منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ حکام نے آگاہ کیا کہ کلین ڈرنکنگ واٹر پروگرام کے تحت چار اضلاع میں روزانہ 19 لیٹر کی 10 ہزار بوتلیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں صوبے بھر میں 670 بوٹلنگ پلانٹس قائم کرنے کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق ان میں سے 335 پلانٹس روزانہ 5 ہزار لیٹر جبکہ مزید 335 پلانٹس روزانہ 10 ہزار لیٹر صاف پانی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ صاف پانی کی بروقت فراہمی کے لیے صوبے بھر میں 4,020 ڈسٹری بیوشن پوائنٹس قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔حکام نے بتایا کہ خوشاب میں روزانہ 860، رحیم یار خان میں 780، ڈی جی خان کے کوہِ سلمان کے دور دراز علاقوں میں 1,500 جبکہ بہاولپور کے پسماندہ علاقوں میں روزانہ 2,780 صاف پانی کی بوتلیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ضرورت کے مطابق صاف پانی کی ترسیل کے لیے ٹرکوں کی تعداد بڑھانے کی بھی ہدایت جاری کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عوام کو ان کی دہلیز تک صاف پینے کا پانی پہنچانا حکومت پنجاب کی ترجیح اور ان کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور جہاں پینے کے صاف پانی کی سہولت دستیاب نہیں، وہاں بوتل بند پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین اور بزرگوں کو سر پر پانی اٹھا کر دور دراز سے لاتے دیکھ کر انہیں شدید دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے میں کئی واٹر فلٹریشن پلانٹس مکمل طور پر فعال نہیں ہیں، اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تمام منصوبے جلد از جلد مکمل کرکے عوام کو صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔