صدر نے دستخط نہ کئے‘14ایڈیشنل ججوں کی تقرری رک گئی‘حلف میں تاخیر حکومت کا عدالت سے رجوع کرنیکا امکان

جوڈیشل کمیشن نے 20 اور 21 جولائی کو  لاہور ہائیکورٹ کیلئے 10 ایڈیشنل ججوں اور پشاور ہائیکورٹ کیلئے 4 ایڈیشنل ججوں کی منظوری دی تھی‘جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی صدر مملکت سے توثیق قانونی ضرورت ہے
 ایڈیشنل ججوں کیلئے ایک سال بعد کنفرمیشن اور حلف لینا لازم ہے،  حلف صدر کی منظوری کے نوٹیفیکیشن کے بعد ہی ممکن ہے:ذرائع‘ صدرارتی توثیق میں تاخیر کے خلاف ایڈووکیٹ لقمان ظفر کی اسلام ہائیکورٹ میں درخواست دائر 
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مملکت کی جانب سے سمری پر دستخط نہ ہونے کے باعث ہائی کورٹ میں نئے ججوں کا حلف نہ ہوسکا‘جوڈیشل کمیشن سفارشات پر صدر مملکت کے دستخط میں مزید تاخیر سے عدالتی بحران کا خدشہ ہے۔ وفاقی حکومت نے مختلف قانونی آپشنز پر غور شروع کردیا۔تفصیلات کے مطابق 20 اور 21 جولائی کی جوڈیشل کمیشن سفارشات پر منظوری کا نوٹیفیکیشن تاحال جاری نہ ہوسکا،۔منظوری میں تاخیر سے لاہور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز چارج نہ سنبھال سکے، پشاور ہائیکورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کی کنفرمیشن بھی نوٹیفکیشن کی منتظر ہیں۔جوڈیشل کمیشن نے 20 اور 21 جولائی کو اہم فیصلوں کی منظوری دی تھی، جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی صدر مملکت سے توثیق قانونی ضرورت ہے۔ صدر مملکت کمیشن فیصلوں کی منظوری کا رسمی اختیار رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ججز کیلئے ایک سال بعد کنفرمیشن اور حلف لینا لازم ہے، ججز کا حلف صدرمملکت کی منظوری کے نوٹیفیکیشن کے بعد ہی ممکن ہے۔دوسری جانب صدرارتی توثیق میں تاخیر کے خلاف ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے زاہد آصف چودھری  ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صدر کو انکے سیکرٹری کے ذریعے ججز تعیناتی سمری منظوری کی ہدایت  کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے نوٹیفیکیشن میں مزید تاخیر پر وفاقی حکومت کا بھی عدالت سے رجوع کا بھی امکان ہے۔