وزیراعظم سے ایرانی وزیر کی ملاقات پاک ایران بارڈر 24گھنٹے کھلا رکھنے پر اتفاق تجارتی ہدف حاصل کیا جائیگا:شہبازشریف
وزیراعظم سے ایرانی وزیر صنعت کی ملاقات میں بہتر لاجسٹکس اور کسٹمز طریقہ کار میں ہم آہنگی لانے ، کان کنی، خصوصا قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا
خطے میں امن کے لئے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ایران پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے:ایرانی وزیر سید محمد اتابک
نجکاری میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے‘معدنیات کے شعبے کی ترقی ترجیح ہے،خواتین کو بااختیاربنایاجائے گا:شہبازشریف کی بجلی کی ترسیلی کمپنیز کی نجکاری کے جائزہ اجلاس میں اور جائیکا کے صدر سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف سے ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک کی سربراہی میں 6 رکنی وفد نے ملاقات کی ہے ، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون، تجارت اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا، امید ہے مسلسل کوششوں سے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کا ہدف حاصل کیا جائے گا، تجارت، بالخصوص خوراک اور زرعی اجناس و مصنوعات کی تجارت کے فروغ سے دونوں ممالک مستفید ہوں گے،ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان سے حال ہی میں اچھی گفتگو ہوئی۔ملاقات میں بارڈر 24کھلا رکھنے کیلئے سہولیات بڑھانے، بہتر لاجسٹکس اور کسٹمز طریقہ کار میں ہم آہنگی لانے ، کان کنی، خصوصا قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیراعظم نے آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای ،صدر مسعود پزشکیان کیلئے نیک تمنائوں کا پیغام دیا۔ایرانی وزیر سید محمد اتابک نے کہا کہ پرتپاک استقبال اور شاندار میزبانی پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، خطے میں امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ایران پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے، آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت کی ہے نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح اورشکایت کے ازالے کا موثرانتظامی ڈھانچہ یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم کی زیر صدارت بجلی کی ترسیلی کمپنیز کی نجکاری کا جائزہ اجلاس ہوا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کمپنیز کی نجکاری میں سرمایہ کاروں کی شمولیت کے لئے موثرحکمت عملی اختیار کی جائے،نجکاری کمیشن میں جاری ادارہ جاتی اصلاحات اور تنظیم نو کا کام ایک ماہ میں مکمل کیا جائے۔سرمایہ کاروں کی شمولیت کیلئے اندرون و بیرون ملک کامیاب روڈ شوز باعث اطمینان ہیں،ڈسکوز کی نجکاری کے مراحل طے شدہ قواعد کے مطابق منافع بخش انداز میں مکمل کیے جائیں۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ نجکاری کمیشن کی افرادی قوت میں مالیاتی، قانونی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل کیے جائیں،اداروں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے موثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔۔علاوہ از یں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا)کے صدر ڈاکٹر تناکا اکیہیکو کی قیادت میں 9 رکنی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور جاپان کے درمیان دیرینہ شراکت داری، معاشی اصلاحات اور مختلف ترقیاتی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جاپان اور جائیکا کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ جائیکا کے صدر کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے اجتماعی کوششوں سے مشکل معاشی چیلنجز پر قابو پایا ہے اور اب پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں گزشتہ تین برسوں کے دوران سرکاری محصولات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے