ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد، اعظم سواتی نے پشاور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے باوجود انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے گزشتہ روز اعظم سواتی کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے احکامات جاری کیے تھے اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت بھی دی تھی۔ تاہم، ایئرپورٹ پر ان کی روانگی کے دوران انہیں روک دیا گیا، جس کے بعد وہ عدالت میں اپنا کیس لے کر پہنچے۔
عدالتی حکم کے مطابق، اعظم سواتی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے بعد انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی، مگر عملی طور پر ان کو ایئرپورٹ پر روکنا حکومتی یا ادارہ جاتی خلل کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس معاملے پر تاحال تمام فریقین کی جانب سے وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے۔یہ واقعہ سیاسی اور قانونی حلقوں میں حساس موضوع بن چکا ہے، کیونکہ اعظم سواتی کی بیرون ملک روانگی اور ان کے خلاف جاری مقدمات کے تناظر میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ عدالت کا حکم اور عملدرآمد کے حوالے سے آئندہ کی صورت حال کا انتظار کیا جا رہا ہے۔