سیالکوٹ ایئرپورٹ — ایک خواب کی تعبیر اور ایک دوست کی یاد

کامران ملک
سیالکوٹ ایک ایسا شہر ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کی معاشی، صنعتی اور سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہاں کے صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور عوام نے اپنی محنت اور عزم سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ لیکن ایک وقت تھا جب سیالکوٹ جیسے اہم صنعتی شہر کے لیے اپنا بین الاقوامی ہوائی اڈہ محض ایک خواب دکھائی دیتا تھا۔مجھے آج بھی وہ دور یاد ہے جب سیالکوٹ ایئرپورٹ کے قیام کے حوالے سے مختلف حلقوں میں گفتگو ہوا کرتی تھی۔ اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں سیالکوٹ کے لوگوں، صنعت کاروں اور مختلف شخصیات نے اپنی اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کیا۔اسی حوالے سے میرے ایک پرانے دوست میاں نعیم جاوید کا ذکر بھی ضروری ہے، جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں ضلع ناظم سیالکوٹ رہے۔ ان کے دور میں سیالکوٹ کی ترقی اور شہر کے مختلف منصوبوں کے حوالے سے کئی اہم اقدامات دیکھنے میں آئے۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ بھی اسی ترقیاتی سفر کی ایک روشن مثال ہے۔سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ آج صرف ایک عمارت، رن وے یا مسافروں کے آنے جانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ سیالکوٹ کی اجتماعی سوچ، نجی شعبے کے عزم اور عوامی تعاون کی ایک خوبصورت علامت ہے۔ اس ایئرپورٹ نے سیالکوٹ کو دنیا کے کئی اہم شہروں سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ کاروبار، برآمدات، روزگار اور سیاحت کے نئے دروازے بھی کھولے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سیالکوٹ کے صنعت کاروں نے سرکاری وسائل پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت ایک ایسا منصوبہ حقیقت میں تبدیل کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال بن گیا۔جب میں آج سیالکوٹ ایئرپورٹ کو دیکھتا ہوں تو مجھے صرف ایک جدید ہوائی اڈہ نظر نہیں آتا، بلکہ اس کے پیچھے محنت کرنے والے بے شمار لوگوں کے خواب، جدوجہد اور خلوص بھی دکھائی دیتے ہیں۔ترقی کے بڑے منصوبے صرف اینٹوں، سیمنٹ اور مشینری سے نہیں بنتے۔ ان کے پیچھے وڑن، قیادت، اجتماعی سوچ اور مسلسل محنت ہوتی ہے۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ بھی اسی اجتماعی جذبے کی ایک خوبصورت داستان ہے۔میاں نعیم جاوید جیسے لوگ جو اپنے اپنے ادوار میں شہر کی خدمت اور ترقی کے سفر کا حصہ رہے، ان کی خدمات کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ وقت گزر جاتا ہے، عہدے بدل جاتے ہیں اور شخصیات اپنے اپنے راستوں پر چلی جاتی ہیں، لیکن شہر کی ترقی میں ادا کیا گیا کردار ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہتا ہے۔میری نظر میں سیالکوٹ ایئرپورٹ صرف سیالکوٹ کے لوگوں کی کامیابی نہیں بلکہ یہ پورے پاکستان کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر وژن واضح ہو، نیت نیک ہو اور لوگ مل کر کام کریں تو بڑے سے بڑا خواب بھی حقیقت بن سکتا ہے۔