وزارت اطلاعات و نشریات نے نام نہاد افغان ترجمان حمد اللہ فطرت کے حالیہ جھوٹے اور گمراہ کن بیانات کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں صرف فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے دہشت گرد انفراسٹرکچر کو درستگی سے نشانہ بنایا۔
فضائی حملوں، چوکیوں کی تباہی، قبضے، سازوسامان اور دہشت گرد کارندوں کی ہلاکت و زخمیوں کے اعداد و شمار باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں اور ویڈیوز بھی جاری کی جاتی ہیں۔
افغان طالبان رجیم اور اس کے حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسیز کی جانب سے کئے گئے حملوں کی دنیا بھر میں ثبوت موجود ہیں، جیسے حالیہ ڈومیل، بنوں حملہ جہاں 10 شہری، بشمول خواتین اور بچے، شہید ہوئے۔افغان شہریوں کو پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے مسلسل استعمال کرنے کے واضح شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں، جن میں بلوچستان کے وزیر داخلہ کی حالیہ کانفرنس میں پیش کی گئی معلومات بھی شامل ہیں۔
وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ:
افغانستان کے اندر دہشت گرد قیادت کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، اور اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی رپورٹس افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں درجنوں دہشت گرد پراکسیز کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔حمد اللہ فطرت اور دیگر افغان طالبان ترجمان باقاعدگی سے جعلی، پرانی یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پروپیگنڈا ویڈیوز جاری کرتے ہیں، جنہیں صرف ان کے بھارتی سرپرست اور پروپیگنڈا نیٹ ورک کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔یہ بیان واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنانے تک محدود ہیں اور افغان طالبان کے دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔