مہنگا سفر، مشکل زندگی: بڑھتے کرایوں کا عوام پر بوجھ

 افتخار احمد
ملک میں مہنگائی کا طوفان پہلے ہی عام آدمی کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کیے ہوئے تھا، مگر اب ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں حالیہ اضافہ نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کے بعد خود ساختہ 60 سے 65 فیصد اضافے کو ختم کر دیا گیا، لیکن اس کے باوجود کرایوں میں 25 فیصد اضافہ بھی کسی طور عام شہری کے لیے معمولی نہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ کہ حکومت نے ایک حد تک عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ لاہور سے دیگر شہروں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہنگائی کا بوجھ مسلسل عوام کے کندھوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا طبقہ جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں، کم آمدنی اور بے روزگاری کے مسائل کا شکار ہے، اس کے لیے سفر کرنا بھی اب ایک مہنگا خواب بنتا جا رہا ہے۔لاہور سے راولپنڈی، پشاور، ملتان، کراچی اور دیگر شہروں کے کرایوں میں ہونے والا اضافہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ ایک عام شہری کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، لاہور سے راولپنڈی کا ایگزیکٹو کرایہ 2480 سے بڑھ کر 3100 روپے ہو جانا یا کراچی کا کرایہ 7700 سے بڑھ کر 9650 روپے ہو جانا ایک متوسط طبقے کے فرد کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔ جو لوگ روزگار، تعلیم یا دیگر ضروریات کے لیے سفر کرتے ہیں، ان کے لیے یہ اضافہ کسی صدمے سے کم نہیں۔یہ صورتحال خاص طور پر ان افراد کے لیے زیادہ پریشان کن ہے جو روزانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر سفر کرتے ہیں۔ مزدور، طلبہ، ملازمین اور چھوٹے کاروباری افراد پہلے ہی اپنی محدود ا?مدنی میں گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ان کے بجٹ کو مزید بگاڑ دیتے ہیں۔ کئی لوگوں کو اب سفر کم کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ کچھ کو اپنے ضروری کام بھی ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔مہنگائی کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام پر پڑتے ہیں۔ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ پر پڑتا ہے، اور جب ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی مہنگی ہو جاتی ہے۔ یوں مہنگائی کا ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جو مسلسل پھیلتا رہتا ہے اور عوام کو اپنی لپیٹ میں لیتا رہتا ہے۔حکومت کی جانب سے یہ مو?قف اختیار کیا جاتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دبائو اس فیصلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی حالات کا اثر مقامی معیشت پر پڑتا ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بوجھ کو ہمیشہ عام عوام ہی کیوں برداشت کرے؟ کیا کوئی ایسا نظام موجود نہیں جس کے ذریعے اس بوجھ کو منصفانہ طور پر تقسیم کیا جا سکے؟۔ٹرانسپورٹرز کی جانب سے 65 فیصد اضافے کا اعلان یقیناً ایک غیر منصفانہ قدم تھا، جسے حکومت نے بروقت مذاکرات کے ذریعے کم کر دیا۔ تاہم 25 فیصد اضافہ بھی ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عوام پہلے ہی شدید معاشی دبائو کا شکار ہیں۔ اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عوامی مشکلات کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم مسئلہ نگرانی اور عملدرآمد کا ہے۔ ماضی میں بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ سرکاری طور پر مقرر کردہ کرایہ ناموں پر مکمل 
عملدرآمد نہیں ہوتا۔ اکثر ٹرانسپورٹرز اپنی مرضی سے زائد کرایہ وصول کرتے ہیں، جبکہ مسافر مجبوری کے تحت خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر اس نئے کرایہ نامے پر بھی سختی سے عملدرآمد نہ کروایا گیا تو عوام کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صرف کرایوں کا تعین کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ ان پر مکمل عملدرآمد ہو۔ اس کے لیے موثر مانیٹرنگ سسٹم، شکایات کے فوری ازالے کا نظام اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ بصورت دیگر، یہ تمام اقدامات محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے۔مزید برآں، عوام کو ریلیف دینے کے لیے متبادل اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سرکاری ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے، سبسڈی دی جائے، یا کم آمدنی والے افراد کے لیے خصوصی رعایتی اسکیمیں متعارف کروائی جائیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں عوامی ٹرانسپورٹ کو سستا اور موثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں، جن سے نہ صرف عوام کو سہولت ملتی ہے بلکہ معیشت بھی مستحکم ہوتی ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ پالیسی سازی میں عوامی نمائندوں اور ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ فیصلے زمینی حقائق کے مطابق کیے جا سکیں۔ محض اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے اکثر عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی کے اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے ایک بڑے اضافے کو روک کر کسی حد تک عوام کو ریلیف دیا ہے، مگر موجودہ اضافہ بھی عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ مہنگائی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کریں۔ کیونکہ ایک ایسا معاشرہ جہاں سفر کرنا بھی مشکل ہو جائے، وہاں ترقی کا خواب ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔