سید ذوالفقار حسین
موجودہ دور میں معاشی حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، ان کے اثرات معاشرے کے ہر طبقے پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، تاہم سب سے زیادہ متاثر عام آدمی ہو رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، آمدنی میں کمی اور ضروریاتِ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لوگوں کی زندگی کو شدید دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔ جب ایک فرد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے تو اس کی ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی کیفیت بھی متاثر ہوتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں معاشی عدم استحکام اور ناہمواری اکثر سماجی مسائل کو جنم دیتی ہے، جن میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ جب نوجوان مایوسی، بے چینی، ذہنی دباؤ اور مستقبل کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں تو بعض اوقات وہ وقتی سکون اور فرار کی خاطر منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ یہی رجحان آہستہ آہستہ ایک عادت اور پھر خطرناک لت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔منشیات کا عادی شخص اپنی زندگی کے اہم ترین رشتوں اور ذمہ داریوں سے بھی غافل ہو سکتا ہے۔ وہ نشے کے حصول کے لیے اپنے والدین، بہن بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد سے دوری اختیار کر لیتا ہے، لیکن منشیات فراہم کرنے والے عناصر کے ساتھ اس کا تعلق مضبوط ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی ساری توجہ نشہ حاصل کرنے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان کے لیے اذیت، پریشانی اور سماجی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ایسے حالات میں والدین، اساتذہ، سماجی کارکنان اور معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں، دوستوں کے حلقے، ذہنی کیفیت اور روزمرہ عادات پر گہری نظر رکھیں۔ ان کے ساتھ محبت، اعتماد اور مکالمے کا رشتہ مضبوط کریں تاکہ وہ کسی بھی ذہنی دباؤ یا پریشانی کو چھپانے کے بجائے اپنے بڑوں سے شیئر کر سکیں۔ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں، نوجوانوں اور چاہنے والوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ آگاہی مہمات، تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کرنے کے پروگرام، اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے ہم اس ناسور پر قابو پا سکتے ہیں۔