کیا ہم اپنی اولاد کی پرورش موجودہ دور کے مطابق کر رہے ہیں

آپا منزہ جاوید 
یہ سوال آج ہر ماں باپ کو اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت اس زمانے کے مطابق کر رہے ہیں جس میں وہ زندگی گزار رہی ہے یا ہم اب بھی انہیں اس دور کے لیے تیار کر رہے ہیں جو گزر چکا ہے
زمانہ بدل چکا ہے اور اس کے ساتھ زندگی کے تقاضے بھی بدل گئے ہیں آج بچے ہوں یا بچیاں دونوں کو گھر سے باہر نکلنا ہے دونوں کو اپنے کام خود کرنے ہیں دونوں کو تعلیم اور روزگار کے لیے سفر کرنا ہے اور دونوں کو ایسے حالات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا تک نہ ہو اس لیے اولاد کی پرورش صرف کھانا کپڑا اور چھت فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ انہیں زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے کے قابل بنانا بھی والدین کی ذمہ داری ہے
ہمیں اپنے بچوں کو بچپن ہی سے عملی زندگی کے بنیادی ہنر سکھانے چاہییں بیٹا ہو یا بیٹی دونوں کو سائیکل چلانا آنا چاہیے اور عمر اور قانون کے مطابق موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے کی تربیت بھی دینی چاہیے اگر ممکن ہو تو گھڑ سواری بھی سکھائی جائے کیونکہ یہ صرف تفریح نہیں بلکہ جسمانی توازن اعتماد اور ہمت پیدا کرنے والی سرگرمیاں بھی ہیں
اسی طرح تیراکی ایک ایسا ہنر ہے جو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں زندگی بچانے کا سبب بن سکتا ہے اسے صرف کھیل سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بچوں کو بنیادی طبی امداد ہنگامی حالات میں درست فیصلہ کرنا راستہ تلاش کرنا اور ضرورت کے وقت دوسروں سے مدد طلب کرنا بھی سکھانا چاہیے اگر گاڑی راستے میں خراب ہو جائے تو بچے کو کم از کم اتنی بنیادی سمجھ ضرور ہونی چاہیے کہ خرابی کی نوعیت پہچان سکے اور محفوظ طریقے سے مدد حاصل کر سکے
آج کے دور میں صرف جسمانی مضبوطی کافی نہیں ذہنی مضبوطی بھی ضروری ہے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ زندگی ہر قدم پر آسان راستہ نہیں دیتی مشکلات آئیں گی فیصلے کرنے پڑیں گے کبھی ناکامی ہوگی کبھی نقصان ہوگا اور کبھی ایسے لوگ بھی ملیں گے جو ہماری سادگی سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے اس لیے انہیں مضبوط حوصلے کے ساتھ جینا سکھانا ہوگا
بچوں کو یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ زندگی رونے اور پچھتانے سے درست نہیں ہوتی بلکہ اپنی غلطی سے سیکھنے اور حوصلے کے ساتھ درست فیصلہ کرنے سے آگے بڑھتی ہے غلطی ہو جائے تو خود کو ختم نہیں کرنا چاہیے بلکہ غلطی کو استاد بنانا چاہیے اور دوبارہ بہتر راستہ اختیار کرنا چاہیے
موجودہ دور میں اپنی حفاظت کا شعور بھی تربیت کا لازمی حصہ ہے بچے اور بچیاں دونوں اپنی ذاتی حدود کو پہچانیں کسی اجنبی پر فوراً اعتماد نہ کریں کسی مشکوک صورت حال میں خاموش نہ رہیں اور اگر انہیں کسی جگہ خطرہ محسوس ہو تو فوراً وہاں سے نکلنے اور قابل اعتماد شخص سے رابطہ کرنے کا طریقہ جانتے ہوں انہیں جسمانی دفاع کی مناسب اور محفوظ تربیت بھی دی جا سکتی ہے تاکہ وہ خطرے کی صورت میں گھبرا کر بے بس نہ ہو جائیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بچوں کے دلوں میں ہر وقت خوف پیدا کریں بلکہ انہیں حقیقت پسند بنانا ہے انہیں بتانا ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں اور ایسے لوگ بھی جو دوسروں کو دھوکا دے سکتے ہیں اس لیے ہر شخص پر ایک دم اعتماد نہیں کیا جا سکتا اعتماد ضرور کریں مگر اپنی آنکھیں کھلی رکھیں کیونکہ آج سادہ دل انسان سے زیادہ بہروپیے دکھائی دیتے ہیں اور ہر مسکراہٹ سچائی کی علامت نہیں ہوتی
ہمیں بچوں کو یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کسی مشکل میں اکیلے بہادری دکھانے کے بجائے بروقت مدد لینا بھی بہادری ہے اگر راستہ بھٹک جائیں تو مدد کیسے لینی ہے اگر فون کی سہولت نہ ہو تو کسی محفوظ جگہ تک کیسے پہنچنا ہے اگر کوئی پیچھا کرے تو کیا کرنا ہے اگر کوئی اجنبی ضرورت سے زیادہ قریب آنے کی کوشش کرے تو کس طرح واضح انکار کرنا ہے اور کس قابل اعتماد شخص کو اطلاع دینی ہے یہ سب باتیں عمر کے مطابق بچوں کو سکھانا والدین کی ذمہ داری ہے
اولاد کی تربیت میں خود انحصاری بھی بہت ضروری ہے ہم اکثر محبت میں بچوں کے ہر کام خود کر دیتے ہیں ان کے جوتے باندھ دیتے ہیں ان کے کپڑے سنبھال دیتے ہیں ان کے چھوٹے بڑے کام خود انجام دیتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ بڑے ہو کر وہ ہر مشکل کا سامنا خود کریں ایسا نہیں ہو سکتا جس بچے کو ہر قدم پر سہارا دیا جائے اسے اچانک زندگی کے میدان میں اکیلا چھوڑ دینا انصاف نہیں
بچوں کو گھر کے چھوٹے چھوٹے کام سکھائیں کھانا بنانے کی بنیادی سمجھ دیں کپڑے سنبھالنا صفائی کرنا چیزوں کی حفاظت کرنا رقم کا درست استعمال کرنا راستہ سمجھنا سفر کی منصوبہ بندی کرنا اور ضرورت کے وقت کسی کام کے لیے دوسروں کا محتاج نہ ہونا بھی تربیت کا حصہ ہے بیٹا ہو یا بیٹی زندگی دونوں نے گزارنی ہے اس لیے عملی زندگی کے ہنر بھی دونوں کے لیے یکساں ضروری ہیں
ہمیں اپنے بچوں کو وقت کے مطابق علم بھی دینا ہوگا دنیا تیزی سے بدل رہی ہے معلومات کے نئے دروازے کھل رہے ہیں نئے مسائل سامنے آ رہے ہیں اس لیے بچوں کو اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی معلومات درست ہے اور کون سی غلط افواہ ہے ہر بات کو بغیر تحقیق کے سچ مان لینا بھی نقصان دہ ہے اور ہر شخص کی بات پر آنکھیں بند کرکے یقین کرنا بھی
ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے بچے دور حاضر کی نئی ایجادات اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ واقفیت رکھتے ہوں کیونکہ جس دنیا میں وہ زندگی گزارنے والے ہیں اس کی رفتار ہم سے کہیں زیادہ تیز ہے انہیں نئی چیزوں سے خوفزدہ کرنے کے بجائے ان کا درست اور محفوظ استعمال سکھانا ہوگا انہیں علم دیں انہیں تحقیق کا شوق دیں انہیں سوال کرنے اور نئی چیزیں سیکھنے کا حوصلہ دیں کیونکہ جب ہم بچوں کو علم کی روشنی دیں گے تو وہ ہمارے لیے نئی راہیں تلاش کریں گے
اسی طرح ہنر کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہر بچہ کسی نہ کسی عملی ہنر سے ضرور واقف ہو خواہ وہ ٹیکنالوجی سے متعلق ہو دستکاری ہو زراعت ہو مرمت کا کام ہو کھانا پکانا ہو یا کوئی اور مفید ہنر ہنر انسان کو صرف روزگار نہیں دیتا بلکہ اعتماد بھی دیتا ہے اور مشکل وقت میں اپنے 
قدموں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی دیتا ہے
ہمیں اپنی اولاد کو مجاہد کی طرح مضبوط حوصلے والا ضرور بنانا ہے مگر اس مضبوطی کا مطلب صرف جسمانی طاقت نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ذہنی استقامت سچائی ذمہ داری صبر برداشت اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے انہیں یہ سکھانا ہے کہ طاقت کا استعمال ظلم کے لیے نہیں حفاظت اور بھلائی کے لیے ہوتا ہے اور بہادری کا مطلب کمزور کو دبانا نہیں بلکہ مشکل وقت میں خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنا ہے
والدین کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بچے ہماری باتوں سے زیادہ ہمارے عمل سے سیکھتے ہیں اگر ہم خود مشکل آتے ہی گھبرا جائیں ہر مسئلے میں دوسروں کے محتاج ہوں غلطی تسلیم نہ کریں اور ہر اجنبی پر بے سوچے سمجھے اعتماد کریں تو ہماری نصیحتیں بچوں کے دل پر وہ اثر نہیں چھوڑیں گی جو ہمارا عملی کردار چھوڑ سکتا ہے
اولاد کو وقت کے مطابق تیار کرنا انہیں زمانے کے حوالے کرنا نہیں بلکہ زمانے کے مقابلے کے قابل بنانا ہے ہمیں ان کے ہاتھ میں صرف سہولتیں نہیں بلکہ صلاحیتیں دینی ہیں انہیں صرف یہ نہیں بتانا کہ دنیا خطرناک ہے بلکہ یہ بھی سکھانا ہے کہ خطرے کو پہچان کر محفوظ راستہ کیسے اختیار کیا جاتا ہے
آج جب بیٹیاں بھی اپنے گھروں سے نکل کر تعلیم روزگار اور اپنی ذمہ داریوں کے لیے سفر کرتی ہیں اور بیٹے بھی زندگی کی دوڑ میں گھر سے باہر نکلتے ہیں تو دونوں کو عملی تربیت کی ضرورت ہے بیٹی کو کمزور سمجھ کر ہر مشکل سے دور رکھنا اور بیٹے کو صرف اس لیے بے فکر چھوڑ دینا کہ وہ لڑکا ہے دونوں رویے درست نہیں بچوں کو جنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت کے مطابق تیار کرنا ہوگا
آخر میں ہمیں اپنے آپ سے پھر یہی سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی اولاد کو صرف آج کے لیے پال رہے ہیں یا آنے والے کل کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں کیا ہم انہیں صرف اپنے سائے میں محفوظ رکھنا چاہتے ہیں یا انہیں اس قابل بھی بنانا چاہتے ہیں کہ جب ہمارا سایہ ان کے ساتھ نہ ہو تو وہ اپنے فیصلے سمجھ داری سے کر سکیں
اولاد ہمارے پاس اللّٰ? کی امانت ہے اور امانت کا حق صرف محبت کرنے سے ادا نہیں ہوتا اس کی صحیح پرورش تربیت حفاظت اور زندگی کے لیے تیاری بھی ضروری ہے ہمیں ایسے بچے نہیں چاہییں جو ہر مشکل میں ہماری طرف دیکھیں بلکہ ایسے بیٹے اور بیٹیاں چاہییں جو مشکل وقت میں گھبرائیں نہیں سوچیں سمجھیں فیصلہ کریں مدد حاصل کریں اور محفوظ راستہ اختیار کریں
آپ بچوں کو علم کی روشنی دیں وہ آپ کو نئی راہیں دکھائیں گے اور جب وہ محفوظ اور مضبوط ہوں گے تو آپ مطمئن رہیں گے