وفاق اور صوبوں کے ساتھ مل کر چلیں گے، اختلافات ختم کرکے ایک یونٹ بنیں گے، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی

وفاق اور صوبوں کے ساتھ مل کر چلیں گے، اختلافات ختم کرکے ایک یونٹ بنیں گے، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی

پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ایک صفحے پر چلنے کی کوشش کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اختلافات کے بجائے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت عوامی مسائل حل کیے جائیں گے۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں صفائی ستھرائی، تجاوزات کے خاتمے، ترقیاتی منصوبوں، گندم کے معاملے، ٹریفک نظام اور بجلی و گیس کی فراہمی سے متعلق حکومتی اقدامات پر بات کی۔

صوبے بھر میں صفائی مہم اور تجاوزات کے خلاف کارروائی
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے پورے صوبے کو صاف ستھرا بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس مقصد کے لیے صفائی ستھرائی اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز پشاور سے کیا گیا ہے۔ان کے مطابق شہری علاقوں کو صاف رکھنے، تجاوزات کے خاتمے اور عوام کو بہتر شہری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس مہم کا مقصد شہر میں صفائی کی صورتِ حال بہتر بنانا اور عوام کے لیے آمدورفت کو آسان بنانا ہے۔گورنر نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ صفائی اور شہری انتظامات سے متعلق اقدامات کو صوبے کے دیگر علاقوں تک وسعت دینے کی کوشش کی جائے گی۔

گندم کی مبینہ گمشدگی کی انکوائری شروع
گورنر خیبر پختونخوا نے گندم کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے انکوائری شروع کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم کیا جائے گا کہ صوبے کو ملنے والی گندم کہاں گئی اور اس کی دستیابی یا تقسیم میں کیا مسائل پیش آئے۔فیصل کریم کنڈی کے مطابق انکوائری کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں گے اور رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ ضروری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ گندم سے متعلق انتظامی معاملات میں کہاں کوتاہی ہوئی۔ تاہم انکوائری کے نتائج اور گندم کی مبینہ گمشدگی کی تفصیلات رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

غیر ضروری ترقیاتی منصوبوں پر کام نہیں ہوگا
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئندہ ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب میں عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے گی اور صرف ایسے منصوبوں پر کام کیا جائے گا جو صوبے اور شہریوں کے لیے مفید ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بعض ترقیاتی کاموں کے بل مختلف محکموں کی جانب سے بنائے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ضروری منصوبوں پر سرکاری رقم خرچ نہیں کی جائے گی اور عوامی وسائل کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔گورنر کے پی نے کہا کہ سرکاری پیسہ عوام کی امانت ہے اور اسے شفاف انداز میں ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق منصوبوں کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات طے کی جائیں گی۔

ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے کیمروں سے مدد لینے کا فیصلہ
گورنر خیبر پختونخوا نے بتایا کہ ٹریفک قوانین اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور خلاف ورزیوں کی مؤثر نگرانی کے لیے کیمروں کی مدد لی جائے گی۔فیصل کریم کنڈی کے مطابق ٹریفک قوانین کے نفاذ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور چالان سے متعلق شکایات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید نگرانی کے نظام سے ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور کارروائی کے طریقۂ کار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔تاہم نئے نظام کے نفاذ، کیمروں کی تنصیب اور چالان کے طریقۂ کار کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

لوڈشیڈنگ اور بجلی چوری کے معاملے پر واپڈا سے بات ہوگی
فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے پر واپڈا حکام کے ساتھ بیٹھیں گے تاکہ صورتِ حال کا جائزہ لے کر حل نکالا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوری کے خلاف بھی اقدامات کیے جائیں گے اور صارفین کو اپنے بجلی کے بل ادا کرنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے معاملات کو وفاق اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔گورنر کے پی نے اس امید کا اظہار کیا کہ بجلی اور گیس سے متعلق مسائل جلد حل کرنے کے لیے پیش رفت ہوگی۔ تاہم لوڈشیڈنگ میں کمی اور گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے کسی حتمی شیڈول یا عملی منصوبے کی تفصیلات انہوں نے فراہم نہیں کیں۔

وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون پر زور
فیصل کریم کنڈی نے اپنے بیان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مشترکہ طور پر عوامی مسائل حل کرنے چاہییں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی، شہری سہولتوں میں بہتری اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔