جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 صوبے بنانے کا حکومتی فیصلہ غلط ہے اور پاکستان کے آئین کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔
پنجاب کے ضلع خانیوال میں جے یو آئی (ف) کے رہنما علامہ اکرام القادری کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے 2 صوبے مسائل کا شکار ہیں اور حکومت نئے صوبے بنانے کی بات کر رہی ہے۔ ان کے بقول حکومت عوامی اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 15 صوبے بنانے کا فیصلہ درست نہیں، جبکہ ماضی میں فاٹا انضمام کا فیصلہ بھی ان کے بقول بدترین ثابت ہوا ہے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے بات چیت جاری ہے اور اسمبلی میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے مشاورت کی جائے گی