ویب ڈیسک: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متحدہ ایکشن کمیٹی سرکلر روڈ لاہور کے تاجروں کے وفد نے اہم ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران تاجر برادری نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، مہنگائی، اور شہر کی تزئین و آرائش کے نام پر روزگار ختم کرنے جیسے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔
تاجر برادری کے تحفظات
وفد کے ارکان نے مولانا فضل الرحمان کو بتایا کہ:حکومت شہر کی خوبصورتی کے نام پر ہزاروں دکانیں بند کروا رہی ہے۔اس عمل سے لاکھوں افراد بیروزگار ہو رہے ہیں۔روزگار چھننے سے تاجروں اور محنت کشوں کے خاندان فاقوں کا شکار ہو رہے ہیں۔وہ ایک ایسے عوامی لیڈر سے تعاون چاہتے ہیں جس نے ہمیشہ مظلوم طبقے کی آواز بلند کی ہو۔
مولانا فضل الرحمان کی حمایت
مولانا فضل الرحمان نے تاجر وفد کے مطالبات کی پوری حمایت کرتے ہوئے کہا کہ:“شہر کی تزئین و آرائش کے نام پر اگر لوگوں کو بیروزگار کیا جائے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔”انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں نے ملک میں مہنگائی کو بے قابو کر دیا ہے، اور غریب آدمی کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے۔ موجودہ بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولانا نے کہا کہ:
“حکومت نے ہر چیز کو مہنگا کر دیا ہے۔ ان کی پالیسیاں غریب کو مزید غریب بنا رہی ہیں، جبکہ امیر طبقہ محفوظ ہے۔”
جے یو آئی کا عزم
مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ:جمعیت علمائے اسلام (ف) پوری قوت کے ساتھ تاجر برادری، محنت کش طبقے، اور روزگار سے متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑی ہے۔عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سیاسی و عوامی سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔
پس منظر اور موجودہ صورتحال
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں لاہور میں مختلف سڑکوں، بازاروں اور سرکاری مقامات کی تزئین و آرائش کے لیے تجاوزات کے خلاف مہم تیز کر دی گئی ہے، جس سے سینکڑوں چھوٹے کاروباری افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بغیر متبادل دیے ان کے کاروبار ختم کیے جا رہے ہیں۔