حنا جاوید قتل کیس: پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے اہلکاروں اور دیگر افراد کے بیانات قلمبند کرنا شروع کردیے

حنا جاوید قتل کیس: پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے اہلکاروں اور دیگر افراد کے بیانات قلمبند کرنا شروع کردیے

حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش جاری ہے، تفتیشی ٹیم نے واقعے کے روز اطلاع ملنے سے لے کر مقتولہ کی لاش ملنے، شواہد اکٹھے کرنے اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیے جانے تک جائے وقوعہ پر موجود رہنے والے پولیس افسران، اہلکاروں اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلمبند کرنا شروع کردیے ہیں۔

راولپنڈی پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل نوعیت کا مقدمہ ہے، تاہم قتل کے کسی بھی مقدمے میں معمولی سے معمولی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ پولیس تمام ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط سے تفتیش کر رہی ہے۔پولیس حکام کے مطابق ایسے مقدمات میں فرانزک شواہد انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ڈی این اے سمیت دیگر فرانزک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے، جن کے موصول ہونے کے بعد تفتیش کو حتمی سمت دینے میں مدد ملے گی۔ تفتیش یا چالان میں کسی قسم کے قانونی سقم سے بچنے کے لیے پراسیکیوشن برانچ کے ماہرین کو بھی تفتیشی عمل میں شامل کیا گیا ہے۔حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر امام اور ملازم زیشان ارشد دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں رہے، جس کے بعد دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل اڈیالہ منتقل کردیا گیا۔ ایف آئی آر میں نامزد تیسرے ملزم، مقتولہ کے سسر اصغر فیاض امام کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں لائی گئی۔ایس ایس پی انویسٹیگیشن سیف اللہ کی سربراہی میں خصوصی تفتیشی ٹیم کیس کی نگرانی کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے سب سے پہلے واقعے کی اطلاع حاصل کرنے والے چوکی طارق آباد کے عملے، موقع پر پہنچنے والے اے ایس آئی اور بعد میں پہنچنے والے دیگر پولیس افسران و اہلکاروں کو الگ الگ طلب کرکے بیانات قلمبند کیے۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق مقتولہ کے سسر نے ابتدائی طور پر انہیں گھر میں چور گھسنے کی اطلاع دی تھی۔ پولیس کے موقع پر پہنچنے پر دروازے کے لاکس اور ہینڈل ٹوٹے ہوئے تھے۔ وہاں موجود ملازم نے پولیس کو بتایا کہ ایک شخص گھر سے باہر بھاگا جبکہ ایک شخص اندر موجود ہے۔ پولیس اہلکار جب اندر داخل ہوئے تو باتھ روم سے حنا جاوید کی لاش برآمد ہوئی۔ذرائع کے مطابق مقتولہ کے سسر نے پولیس کو بتایا کہ اپارٹمنٹ میں ان کا بیٹا اور بہو حنا جاوید رہائش پذیر تھے، جبکہ اپارٹمنٹ کے ایک حصے میں ملازم بھی سوتا تھا۔ اوپر والا اپارٹمنٹ سسر کے زیر استعمال تھا، جہاں ان کی شدید علیل اہلیہ رہائش پذیر تھیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک خاتون بھی تعینات تھی۔پولیس نے جائے وقوعہ سے مختلف فرانزک شواہد بھی اکٹھے کیے، جن میں مقتولہ کے کپڑے، ہاتھ اور کمر باندھنے کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا، چہرے پر رکھا گیا کپڑا، لاش کو باتھ روم کے شاور سے باندھنے کے لیے استعمال ہونے والی تار، فرش پر موجود خون کے نمونے، فنگر پرنٹس اور گھر میں موجود افراد کے موبائل فون شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق شواہد کے تقریباً 19 پارسلز فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے ہیں۔

پولیس نے مقتولہ کے سسر، شوہر اور ملازم کے ڈی این اے، پولی گراف اور دیگر ضروری ٹیسٹ بھی کرائے ہیں۔ تفتیشی ٹیم کے مطابق جائے وقوعہ پر موجود پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے بیانات بھی کیس کی تفتیش میں اہم کڑی ثابت ہوسکتے ہیں۔سینئر پولیس افسر کے مطابق حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطحی انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو کیس کی نگرانی کے ساتھ ضرورت کے مطابق تفتیشی ٹیم کو رہنمائی بھی فراہم کر رہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے اور فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ چالان میں کسی قانونی خامی سے بچنے کے لیے پراسیکیوشن کے ماہرین کی معاونت بھی حاصل کی جا رہی ہے۔