لاہور: حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہلخانہ نے پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آزاد تفتیشی ٹیم سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کردیا۔
مقتولہ کے بھائی فہد جاوید نے چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو خط لکھا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے وزارتِ قانون اور پارلیمنٹ کی کاکس کمیٹی کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش ایف آئی آر کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی اور حنا جاوید قتل کیس میں اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اہلخانہ کے مطابق تفتیش کا رخ مبینہ طور پر مرکزی ملزم کے بجائے گھریلو ملازم کی جانب موڑا جارہا ہے، جبکہ اہم شواہد بھی مناسب طریقے سے محفوظ نہیں کیے گئے۔اہلخانہ کے مطابق مقتولہ کے موبائل فون سے ان کی بہن کے ساتھ ہونے والی تمام پیغامات کی گفتگو ڈیلیٹ کی گئی، جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والی خون آلود چادر پولیس کے بجائے مقتولہ کے سسر کے حوالے کی گئی۔ خط میں الزام عائد کیا گیا کہ مرکزی ملزم فیصل اصغر کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ فرانزک کے لیے قبضے میں نہیں لیے گئے اور مرکزی ملزم و گھریلو ملازم کے موبائل فونز کی ویب ایکٹیویٹی کا بھی فرانزک نہیں کرایا گیا۔
خط کے مطابق قتل کے محرک کا تاحال تعین نہ ہونے پر بھی اہلخانہ کو شدید تحفظات ہیں۔ اہم گواہوں، ملازماؤں، ڈرائیور، ملزم کے بھائی کامل اور پڑوسیوں کے بیانات قلمبند نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ ڈی این اے اور دیگر فرانزک رپورٹس میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اہلخانہ نے الزام عائد کیا کہ مقدمے میں نامزد مقتولہ کے سسر کو غیر ضروری رعایت دی جارہی ہے، جبکہ مرکزی ملزم فیصل اصغر کے قبضے سے تاحال کوئی برآمدگی نہیں ہوئی۔ فیصل اصغر کے کمرے کی مناسب تلاشی نہ لیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔خط میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے ڈی این اے اور دیگر فرانزک رپورٹس فوری حاصل کرنے، مرکزی ملزم اور گھریلو ملازم کے تمام الیکٹرانک آلات کا فرانزک کرانے اور حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش آزاد تفتیشی ٹیم کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حنا جاوید کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا گیا اور وہ انصاف کے منتظر ہیں۔