صوبوں یا انتظامی یونٹس پر مخالف نہیں ہونی چاہیے:خواجہ آصف عوام کو فیصلہ کرنے دیں وہ کیا چاہتے ہیں:محسن نقوی

اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت کا قیام ایک اچھا اقدام ہوگا،  پہلے مرحلے میں وفاقی دارالحکومت میں اس ماڈل پر عملدرآمد ہوتا ہے تو ملک کے دیگر حصوں میں بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے:وزیردفاع
صوبوں پر تفصیلی بحث ہورہی ہے، دنیا بھرمیں یورپ، برطانیہ ہر جگہ اس طرح کا نظام موجود ہے، چاہتے ہیں مقامی سطح پر لیڈرشپ آئے، خواہش ہے بہت سارے صادق خان، بہت سے ممدانی اور بہت سے اردوان آئیں:وزیرداخلہ
اسلام آباد (آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے  اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت کا قیام ایک اچھا اقدام ہوگا، اور اگر پہلے مرحلے میں وفاقی دارلحکومت میں اس ماڈل پر عملدرآمد ہوتا ہے تو ملک کے دیگر حصوں میں بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی مسائل کا حل عوام کا حق ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد میں اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت کا قیام ایک مثبت اقدام ہے۔ دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں اس نوعیت کا انتظام موجود ہے، جبکہ نئی دہلی میں بھی الگ حکومت کام کر رہی ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد میں اس نظام پر عملدرآمد کیا جاتا ہے تو مستقبل میں ملک کے دیگر صوبوں میں بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو عملی شکل دینا نسبتاً آسان ہوگا۔خواجہ آصف نے کہا کہ اس معاملے پر کسی قسم کی ہچکچاہٹ کی ضرورت نہیں، افغانستان میں بھی 34 سے 35 صوبے ہیں۔ انہوں  نے کہا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے صوبوں کا سخت رویہ مناسب نہیں، کیونکہ یہ کسی صوبے کے خلاف اقدام نہیں بلکہ وفاق کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ  نئے صوبوںکے بجائے  نئے انتظامی یونٹس کی اصطلاح استعمال کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی ڈھانچے کو عوام کے قریب لانے سے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ممکن ہوگی اور لوگوں کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکیں گے۔وزیر دفاع نے واضح کیا کہ انہیں مسلم لیگ ن یا وزیراعظم کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے کسی پیش رفت کا علم نہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر الگ مؤقف اختیار کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ان کا حق ہے، تاہم جب کسی معاملے پر متفقہ فیصلہ ہوگا تو سب کو اسے تسلیم کرنا ہوگا۔دریں  اثناء نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی  نے کہا امید ہے نئے صوبوں کے معاملے کو مثبت انداز میں لیا جائے گا، عوام کو فیصلہ کرنے دیں وہ کیا چاہتے ہیں۔ صوبوں پر تفصیلی بحث ہورہی ہے، سوچنا ہوگا نئے صوبوں کے حوالے سے کیا ہوسکتا ہے۔دنیا بھرمیں یورپ، برطانیہ ہر جگہ اس طرح کا نظام موجود ہے، چاہتے ہیں مقامی سطح پر لیڈرشپ آئے، خواہش ہے بہت سارے صادق خان، بہت سے ممدانی اور بہت سے اردوان آئیں۔