حافظ نعیم الرحمن کا سیلاب متاثرہ کسانوں کے لیے فوری ریلیف کا مطالبہ

حافظ نعیم الرحمن کا سیلاب متاثرہ کسانوں کے لیے فوری ریلیف کا مطالبہ

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ سیلاب کے بعد غذائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں، اور حکومت کو سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے لیے فوری ریلیف اور مالی امداد فراہم کرنی چاہیے۔

منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ سیلاب کے نتیجے میں چالیس لاکھ ایکڑ زمین اور تین ہزار دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، جس سے چاول اور کپاس کی فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں اور آئندہ گندم کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گندم کے ریٹ میں تبدیلی سے کسان مزید متاثر ہوئے اور بیج پر سبسڈی دینے اور فصلوں کے نرخ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جمع پونجی اور مکانات سیلاب میں بہہ گئے، لیکن حکومت نے متاثرین کی ادائیگی اور بحالی کے لیے واضح حکمت عملی نہیں دی۔حافظ نعیم الرحمن نے ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے این او سی جاری کرنے اور آبی گزرگاہوں پر تعمیرات کی اجازت دینے کو بدانتظامی قرار دیا اور کہا کہ اس سے ماحولیاتی اور شہری بحران بڑھا۔ گجرات سمیت کئی اضلاع میں پانی میں ڈوبے ہوئے علاقوں کے لیے کشتیوں اور ٹرالیوں کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا شکار ہے اور حکمران جدید آلات نصب کرنے اور جنگلات کے تحفظ کے بجائے کرپشن میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بھارت پر آبی دہشت گردی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عالمی طاقتیں اور صہیونی لابی معیشت کو جکڑے ہوئے ہیں، جس سے ماحولیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے متاثرین کے گھروں اور فصلوں کے نقصان کی تلافی نہ کی تو جماعت اسلامی لانگ مارچ سمیت ہر سطح پر جدوجہد کرے گی اور متاثرین کی آواز بنے گی۔