یورپ،امریکا میں اسطرح کے جہاز میوزیم میں رکھے جاتے :سلیم مانڈوی والا،ناکارہ جہاز زرعی جامعات کو دینگے:سیکرٹری فوڈ
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)پاکستان میں ٹڈی دل کے سپرے کیلئے استعمال ہونے والے جہازوں کے ناکارہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ میں سیکرٹری فوڈ نے بتایا کہ ٹڈی دل کے سپرے کیلئے استعمال ہونے والے 20 جہازوں میں سے 15 ناکارہ اور گرا ئونڈ ہیں، جو اڑ نہیں سکتے۔کمیٹی رکن سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ باقی پانچ بھی کسی کام کے نہیں۔ اگر وہ جہاز رن وے تک بھی چل گئے تو میں انعام دوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جہاز اتنے پرانے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں اس طرح کے جہاز اب میوزیم میں رکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان جہازوں کے لیے ہر سال بجٹ بھی مختص کیا جاتا ہے، تاہم یہ جہاز کسی کام کے نہیں۔سلیم مانڈوی والا نے مزید کہا کہ باقی دنیا میں ہر سہولت موجود ہے لیکن ہمارے ہاں ہر دو تین سال بعد ٹڈی دل آتا ہے اور فصلوں کو تباہ کر جاتا ہے۔ سیکرٹری فوڈ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ جو 15 جہاز ناکارہ ہو گئے ہیں ان کو زرعی جامعات کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ جہاز کراچی میں موجود ہیں۔ سینیٹ اراکین نے کہا کہ ہم کراچی کا دورہ کریں گے اور ان جہازوں کا جائزہ لیں گے۔کمیٹی اجلاس میں نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی آرڈیننس زیر غور آیا۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ فوڈ ریسرچ اور سکیورٹی پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ بالکل منفی ہے۔ دنیا بھر میں بیج، پودوں اور جانوروں کی امپورٹ ایکسپورٹ پر قرنطینہ ہوتا ہے، بتایا جائے کہ ہمارے ملک میں چاول کو کون چیک کرتا ہے؟ کیا ہمارے ایئرپورٹس پر باہر سے آنے والے جانوروں کے لیے قرنطینہ سہولت ہے؟ ہم ان معاملات پر ایران اور افغانستان سے بھی پیچھے ہیں۔ ہم سے کچھ ہو نہیں رہا، اس لیے ہم ایک نیا ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔سیکرٹری فوڈ سکیورٹی نے کہا کہ ملک کے تمام انٹری پوائنٹس پر قرنطینہ کی سہولیات موجود ہیں لیکن 2014 سے لائیو اینیملز کی امپورٹ اور ایکسپورٹ پر پابندی ہے۔ کچھ جانوروں کی امپورٹ کے لیے مخصوص اجازت دی جاتی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت سے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں اور فصلوں کے نقصانات کی تفصیلات مانگ لیں۔