محمد سعد
سوات کے قریب دریا میں پیش آنے والا حالیہ دلخراش حادثہ، جس میں 11 سیاح دریا برد ہو گئے، محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ حکومتی سستی، نا اہلی اور ترجیحات کے سنگین فرق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ سانحہ ریاست کی اپنے شہریوں کے تئیں ذمہ داریوں سے روگردانی اور انسانی جانوں کی بے قدری کی ایک نئی مثال بن گیا ہے۔
امداد میں تاخیر اور انسانی جانوں کا زیاں
اس حادثے کی سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ 11 قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود، ابتدائی دو گھنٹے تک متاثرین تک کوئی امداد نہیں پہنچ سکی۔ سوات جیسے سیاحتی مقام پر، جہاں دریا میں پانی کا بہاؤ مون سون کے دنوں میں خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، ایمرجنسی رسپانس کا یہ عالم انتہائی شرمناک ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے حکمرانوں کی نظر میں عام آدمی کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے۔
ترجیحات کا تضاد: کھیل یا انسانیت؟
اس نا اہلی کا موازنہ ہماری قومی ترجیحات سے کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جب پاکستان سپر لیگ (PSL) کے دوران کسی میچ کے لیے پچ پر سے بارش کا پانی خشک کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا جا سکتا ہے، تو کیا 19 ڈوبتے ہوئے انسانوں کو بچانے کے لیے یہی وسائل بروئے کار نہیں لائے جا سکتے تھے؟ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے لیے کھیل اور تفریح کی اہمیت انسانی جانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ رویہ نا قابلِ قبول اور شرمناک ہے۔
اٹلی کی مثال اور انسانیت کا درس
اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ ہمیں انسانیت کا درس غیر مسلم ممالک سے لینا پڑتا ہے۔ اٹلی میں ایک کتے کو بچانے کے لیے بھی ریسکیو آپریشن میں ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وہاں کے لوگ شاید نام کے مسلمان نہ ہوں، مگر ان کے دلوں میں انسانیت اور جانداروں کے لیے رحم ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں، جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں اور ہمارے اعمال میں انسانیت کا عنصر مفقود نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے بجائے مسائل کے دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔
اگر یہ کسی بااثر شخصیت کے اہل خانہ ہوتے تو؟
یہاں ایک اور تلخ حقیقت پر غور کرنا ضروری ہے: اگر ان11 افراد میں کسی سیاستدان، کسی اعلیٰ فوجی افسر یا کسی بااثر شخصیت کا کوئی رشتہ دار، مثلاً بیٹا، بیٹی یا بیوی شامل ہوتی، تو کیا تب بھی امداد دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچتی؟ ہرگز نہیں! اس صورتحال میں تو امدادی کارروائیاں 10 منٹ کے اندر شروع ہو جاتیں اور تمام وسائل بروئے کار لائے جاتے، کیونکہ ہمارے ہاں حکومتی مشینری صرف بااثر افراد کے لیے متحرک ہوتی ہے۔ یہ امتیاز اور نا انصافی ہمارے نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
نتیجہ: ایک قوم کا سوال
یہ سانحہ حکومت کی نا اہلی، ناقص حکمت عملی اور عوام کی جانوں سے بے اعتنائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب تک حکمران اپنی ترجیحات درست نہیں کریں گے اور عوام کی فلاح و بہبود کو سب سے اوپر نہیں رکھیں گے، ایسے دلخراش حادثات ہوتے رہیں گے اور ہم ایک قوم کی حیثیت سے کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ضمیر کا جائزہ لیں اور حکومت سے جواب طلبی کریں کہ آخر عام پاکستانی کی جان اتنی بے وقعت کیوں ہے؟