سیاستدانوں کے منصوبے طریقہ کار سے ہٹ کر پی ایس ڈی پی میں شامل ہوئے‘ مالی ڈسپلن کیلئے بجٹ کی مضبوط مانیٹرنگ کی جائے
اسلام آباد (آئی این پی) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے پاکستان کے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم میں 9 خامیوں کی نشاندہی کردی۔عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان میں عوامی سرمایہ کاری کے نظام میں متعدد سنگین خامیاں ہیں، آئی ایم ایف نے مالی ڈسپلن یقینی بنانے کیلئے بجٹ کی مضبوط مانیٹرنگ پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملٹی ایئر بجٹ سازی محدود ہونے کی وجہ سے کرپشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف نے منصوبوں میں تاخیر اور اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا سیاستدانوں کے منصوبے طریقہ کار سے ہٹ کر پی ایس ڈی پی میں شامل ہوئے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کرپشن اینڈ ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ جلد جاری ہونے کا امکان ہے، حکومت نے گورننس میں بہتری اور بدعنوانی کی روک تھام کیلئے مثر اقدامات سے آگاہ کر دیا۔آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ گورننس میں بہتری، بدعنوانی کی روک تھام کیلئے مثر اقدامات کیئے گئے، اقدامات میں ایف ایم یو کا قیام، سول افسران، بیوروکریسی کے اثاثوں کی ڈیکلئریشن شامل ہے، آئی ایم ایف کو ٹیکس ریونیو میں بہتری، کرپشن روکنے کیلئے اقدامات سے آگاہ کر دیا گیا۔حکام نے غیر ملکی فنڈنگ والے اور زیر تکمیل منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ترجیح قرار دیدیا۔