سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف موجودہ نظام سے خامیاں دور کرے پاکستانی مستقل مندوب

 پاکستان نے اس جنگ میں بہت بھاری قیمت چکائی ہے،  تین برسوں میں4700 سے زائد پاکستانی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے
 ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف موثر بین الاقوامی کارروائی کی جائے:عاصم افتخار
 نیویارک(آئی این پی )پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نئے، جامع اور دور اندیش بین الاقوامی ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کیلئے  اپنے انسداد دہشت گردی کے ڈھانچے کو مضبوط بنائے اور پابندیوں کے موجودہ نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرے۔ان خیالات کااظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب   عاصم افتخار احمد نے دہشت گردی کی کارروائیوں سے بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کو لاحق خطرات، نائن الیون کے 25 سال بعد۔ دہشت گردی کے خلاف سلامتی کونسل کی لڑائی کی تجدید کے موضوع پر سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔عاصم افتخار نے سات پاکستانیوں سمیت نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کا نشانہ بننے والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔نائن الیون پر عالمی ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں سلامتی کونسل نے فوری کارروائی کی، جس میں قرارداد 1373 کی منظوری بھی شامل ہے، جو تاحال اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی فریم ورک کا ایک اہم جزو ہے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں، انٹیلی جنس تعاون اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی ہم آہنگی نے القاعدہ کی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک کم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے خلاف بین الاقوامی مہم میں سب سے نمایاں کامیابیاں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور فعال تعاون کے ذریعے حاصل کی گئیں۔