پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی ایک اور درخواست دائر کرنے آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی آئین قیدی کو بات کرنے سے نہیں روک سکتا اور جیل کے رول کے تحت عائد کی گئی پابندی غیر آئینی ہے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ قیدی کی جسمانی آزادی چھینی جا سکتی ہے، مگر اس کی زبان اور ذہن پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ جب کوئی شخص کسی قیدی سے ملاقات کے لیے جاتا ہے تو جو بات اس کے ذہن یا زبان پر آئے، وہ کہہ سکتا ہے، اور اس پر کسی قسم کی پابندی آئین کے تحت جائز نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نظام کے کھوکھلے پن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور عوام کے ووٹ کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
8 فروری کے واقعے کے بعد عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کے ووٹ یا آواز کی کوئی اہمیت نہیں، اور لیڈران کی آزادی حکمرانوں کے رحم و کرم پر منحصر دکھائی جاتی ہے۔سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سب سے بڑے لیڈر ہیں، اور موجودہ حکمران خوفزدہ اور بوکھلائے ہوئے ہیں، جن کا اصل مقصد بانی پی ٹی آئی کی آواز بند کرنا ہے۔