سعودی عرب نے نومبر میں ایشیائی خریداروں کو فروخت کیے جانے والے خام تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع طور پر بڑی کمی کردی، جبکہ شمال مغربی یورپ اور بحیرہ روم کے خریداروں کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
قیمتوں سے متعلق دستاویز کے مطابق سعودی آرامکو نے ایشیا کے لیے اپنے اہم گریڈ عرب لائٹ کی نومبر کی سرکاری فروخت قیمت عمان اور دبئی کی اوسط قیمت سے 5 ڈالر فی بیرل کم مقرر کی ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 3 ڈالر فی بیرل کم ہے۔ یہ جون 2020 کے بعد ایشیائی خریداروں کے لیے خام تیل پر دی جانے والی سب سے بڑی رعایت قرار دی جارہی ہے۔رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے نومبر کے لیے سعودی خام تیل کی قیمت میں 5 ڈالر فی بیرل تک اضافے کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم سعودی آرامکو نے توقعات کے برعکس ایشیائی مارکیٹ کے لیے قیمتوں میں کمی کردی۔آرامکو نے ایشیا کو فراہم کیے جانے والے بھاری گریڈز عرب میڈیم اور عرب ہیوی کی نومبر کی سرکاری فروخت قیمتوں میں بھی 5 ڈالر فی بیرل کمی کی ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدے 66 سینٹ یعنی 0.65 فیصد کمی کے بعد 101.59 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 95 سینٹ یعنی 1.03 فیصد کمی کے بعد 90.12 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں اضافہ اور جی سیون ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر سے تیل جاری کرنے کا فیصلہ شامل ہے۔گزشتہ ہفتے جی سیون ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 100 ملین بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ توانائی کی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔شپنگ ڈیٹا کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے کے سات میں سے چار دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کرگئیں، حالانکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو حملوں کا سامنا رہا۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے زائد کی سطح پر موجود ہیں۔