واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ایران سے متعلق نئی پابندیوں کے قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک کی درآمدات پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار امریکی صدر کو حاصل ہوگیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق قانون روس کے خلاف پابندیوں اور ٹیرف سے متعلق اختیارات میں توسیع کرتا ہے جبکہ ایران پر موجودہ پابندیوں میں بھی توسیع کی گئی ہے۔یہ قانون Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026 کے نام سے منظور کیا گیا ہے۔ اس میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے علاوہ پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے خلاف بھی اقدامات شامل ہیں۔چین اور بھارت ممکنہ طور پر متاثرنئے قانون کے تحت روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے حجم کے لحاظ سے پانچ بڑے خریدار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس فہرست میں روسی توانائی کے بڑے خریدار چین اور بھارت بھی ممکنہ طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔تاہم اہم بات یہ ہے کہ چین اور بھارت پر فی الحال 100 فیصد ٹیرف نافذ نہیں کیا گیا۔ قانون امریکی صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مخصوص حالات اور اپنی پالیسی کے مطابق ٹیرف کی شرح اور متاثر ہونے والے ممالک کا تعین کریں۔رائٹرز کے مطابق قانون کے تحت نئی ٹیرف کارروائیاں 30 دن کے اندر شروع کی جا سکتی ہیں۔ اس طرح واشنگٹن کے پاس روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا ایک نیا قانونی راستہ موجود ہوگا۔
بھارت کا ردعمل
بھارت پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ روسی تیل کی خریداری سے متعلق امریکی ٹیرف اقدامات دونوں ممالک کے تجارتی اور سفارتی تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق نئی امریکی قانون سازی کے ممکنہ اثرات سے واشنگٹن کو آگاہ کیا جا چکا ہے اور بھارت نے اپنے تجارتی و اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
عالمی توانائی مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
روس دنیا کے بڑے توانائی برآمد کنندگان میں شامل ہے، جبکہ چین اور بھارت اس کے اہم خریدار ہیں۔ نئی امریکی پابندیوں کے نتیجے میں روسی تیل کی تجارت، عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہونے کا امکان زیرِ بحث ہے۔رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روسی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ عالمی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جس سے اس قانون کے معاشی اثرات صرف روس اور اس کے خریدار ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔