ریاض: سعودی عرب نے ایشیائی خریداروں کے لیے ایک بار پھر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
عرب لائٹ خام تیل کی نئی قیمت اکتوبر کے لیے دبئی/عمان بینچ مارک سے 2.20 ڈالر فی بیرل زیادہ مقرر کی گئی ہے، جو ستمبر کے مقابلے میں ایک ڈالر فی بیرل کم ہے۔ یہ کمی ماہرین کی توقعات (0.40 سے 0.70 ڈالر) سے کہیں زیادہ ہے۔ دیگر سعودی تیل کی اقسام کی قیمتوں میں بھی 0.90 سے 1 ڈالر فی بیرل تک کمی کی گئی ہے۔تیل کے تاجروں کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ ایشیا خصوصاً چین میں طلب کی کمزوری کے خدشات ہیں۔ اگرچہ چین نے رواں سال مارچ اور اپریل کے بعد درآمدات میں اضافہ کیا، لیکن یہ زیادہ تر ذخیرہ اندوزی کے لیے تھا، حقیقی طلب کے باعث نہیں۔
ریسرچ رپورٹس کے مطابق چین میں تیل کی طلب 2027 میں بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مستحکم ہو جائے گی۔ اس سال صرف 100,000 بیرل یومیہ اضافے کی توقع ہے، جو الیکٹرک گاڑیوں اور ایل این جی ٹرکوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے محدود ہو رہا ہے۔مزید یہ کہ 2025 تک الیکٹرک گاڑیاں تقریباً 25 ملین ٹن پٹرول کی کھپت کم کر دیں گی، جو کم از کم 580,000 بیرل یومیہ کے برابر ہے۔ تاہم اگست میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت کی سالانہ شرح 12 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد رہ گئی ہے۔