پی ٹی آئی سے مطالبہ کیوں کہ اپنے لیڈر عمران خان سے ملے بغیر فیصلہ کرو؟ ،اسد عمر

 مسلم لیگ ن شہباز شریف کی ملک واپسی کا انتظار ، پیپلزپارٹی اور محسن نقوی بار بار زرداری سے ملنے جا رہے تھے
 ناکامی کسی ایک فریق کے لئے نہیں پاکستان کے پورے سیاسی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی،سابق وفاقی وزیر کا بیان
اسلام آباد(آئی این پی )سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ پی ٹی آئی سے مطالبہ کیوں کہ اپنے لیڈر عمران خان سے ملے بغیر فیصلہ کرو؟ ۔ ۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اسد عمر نے حکمران اتحاد بالخصوص مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کڑا سوال اٹھایا کہ مسلم لیگ تو شہباز شریف کی ملک واپسی کا انتظار کرتی رہی تھی، پیپلز پارٹی اور محسن نقوی بار بار آصف علی زرداری سے ملاقاتیں اور ان کی منظوری کے لیے چکر کاٹتے رہے ہیں تو پھر تحریک انصاف سے یہ نامناسب مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے قائد عمران خان سے براہِ راست ملے بغیر مذاکرات پر حتمی فیصلہ کریں؟۔انہوں نے موجودہ سنگین سیاسی بحران کے تناظر میں تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو تنبیہ کی کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ ان مذاکرات کا دارومدار صرف عمران خان یا تحریکِ انصاف کے حال یا مستقبل پر نہیں ہے بلکہ اس پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور خود جمہوریت کا مستقبل منحصر ہے، مذاکرات کی ناکامی کسی ایک فریق کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے پورے سیاسی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی