روشن مستقبل کا خواب…

قطر یا خلیج کی دیگر ریاستوں میں روزگار کا خواب سجائے پاکستانی نوجوان، پروفیشنل، مزدور اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ایک لمبے اور کٹھن راستے پر نکل کھڑے ہوتے ہیں، مگر یہ راستہ سیدھا ان کے خوابوں تک نہیں پہنچتا بلکہ اسلام آباد اور کراچی میں قائم نجی میڈیکل سنٹروں پر جا کر ’’پل صراط‘‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
میڈیکل ٹیسٹ ایک ایسا مرحلہ ہے جو بظاہر محض ایک رسمی کارروائی ہونا چاہیے، مگر یہاں یہ ایک تکلیف دہ، طویل اور بدعنوان عمل بن چکا ہے۔ غیر پیشہ ور عملہ، ایجنٹوں کی بھرمار، ری وزٹ۔۔۔ ری وزٹ۔۔۔ اور پھر ری وزٹ کی تھکا دینے والی مشق! گویا لوگ قطر کے خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ یہ طے کر لیں کہ وہ بار بار انہی میڈیکل سنٹرز کے چکر کاٹیں گے، بار بار فیسیں دیں گے، اور بار بار اپنے ہی ملک کے غیر منصفانہ نظام کا شکار بنیں گے۔
زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان مراکز میں کام کرنے والے کئی افراد اور ان کے آس پاس سرگرم عناصر صرف فیسیں بٹورنے کے ماہر بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر ہوں یا عملہ، یا پھر باہر بیٹھے دلال، سب مل کر اس سسٹم کو ایک پیسہ کمانے کی مشین میں بدل چکے ہیں۔ ڈبل، ٹرپل فیسیں، غیر ضروری رپورٹس، بار بار کے بلڈ ٹیسٹ یا ایکسرے کے لیے بار بار طلب کرنا۔۔۔ یہ سب اب معمول کی بات بن چکی ہے۔
یوں ’’آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا‘‘ کی کہاوت پوری شدت سے سچ ثابت ہوتی ہے۔ ایک طرف پاکستانی نوجوان اپنے ملک میں بے روزگاری، غربت اور مواقع کی کمی کا سامنا کرتے ہیں، تو دوسری طرف جب وہ باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہی کے ملک کا نظام انہیں لوٹنے میں لگ جاتا ہے۔
اسلام آباد اور کراچی میں قائم ان میڈیکل سنٹرز میں ایمانداری، شفافیت اور پروفیشنلزم کے ایسے ایسے بھاشن سننے کو ملتے ہیں کہ کان دکھنے لگیں اور ادھر ملک بھر میں پھیلے انہی کے ڈائریکٹ/ان ڈائریکٹ کارندوں کے بلند بانگ دعوے کہ کسی سنگین بیماری اور خراب ترین ایکسرے کے باوجود 
Done Basesپر یہ میڈیکل کلیئر کروا دیں گے، دونوں انتہائی حدوں کو چھونے والے یہ رویے اسلام آباد کراچی کے قطر میڈیکل سنٹرز کے کرپٹ، نان پروفیشنل اور عاقبت نااندیشوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، اور اس پر حکومت پاکستان کو فوری توجہ دینی چاہیے۔ خاص طور پر وزارت صحت، وزارت سمندر پار پاکستانی اور وزارت محنت کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ قطر سمیت خلیجی ممالک میں جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے راستے میں کیوں اتنی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں؟ آخر کب تک عام آدمی کو اداروں اور ان کے دلالوں کے ہاتھوں لٹنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا؟
حکومت وقت سے اپیل ہے کہ وہ ان نجی میڈیکل سنٹروں میں موجود بدعنوان عناصر کی نشاندہی کی جائے، ان میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرے اور سخت کارروائی عمل میں لائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو صرف عام پاکستانی ہی نہیں، ملک کی ساکھ بھی شدید متاثر ہو گی۔

وقت آ گیا ہے کہ روشن مستقبل کے خواب کو پل صراط بننے سے روکا جائے اور پاکستان کے غریب عوام کو اپنے ہی ملک میں لوٹنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔