عباس عراقچی آج سرکاری دورے پر چین روانہ ہوں گے جہاں وہ چینی ہم منصب سے دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و سفارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ چین کے ساتھ کشیدگی کے بجائے بہتر تعلقات قائم کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے روابط پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران، چین اور امریکا کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر طاقت کے توازن اور سفارتی تعلقات میں اہم تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، اور ان پیش رفتوں پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔