بھارت کی پانچ ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے غیر سرکاری مکمل نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں کئی دہائیوں بعد بڑے سیاسی اپ سیٹس دیکھنے میں آئے۔
بھارت کی ریاستوں مغربی بنگال، تامل ناڈو، آسام، کیرالہ اور پانڈیچیری کے نتائج نے ملکی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔سب سے بڑا سیاسی دھچکا مغربی بنگال میں دیکھنے میں آیا جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 294 رکنی اسمبلی میں 206 نشستیں حاصل کر کے پہلی بار حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر لی، جبکہ ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس محض 80 سے 81 نشستوں تک محدود ہو گئی۔ حکومت سازی کے لیے 148 نشستیں درکار تھیں، یوں بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کی۔تامل ناڈو میں اداکار سے سیاستدان بننے والے جوزف وجے چندر شیکھر کی جماعت ٹی وی کے (Tamizhaga Vettri Kazhagam) نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے 107 سے 108 نشستیں جیت لیں اور ریاست کی روایتی دراوڑی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم 234 رکنی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 118 نشستیں درکار ہیں، اس لیے حکومت سازی کے لیے اتحاد ناگزیر ہوگا۔
آسام میں این ڈی اے نے شاندار کامیابی سمیٹتے ہوئے 92 نشستیں حاصل کر لیں، جبکہ 126 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 64 نشستیں کافی تھیں۔ اس طرح ہمانتا بسوا سرما کی قیادت میں بی جے پی اتحاد نے مسلسل تیسری بار اقتدار برقرار رکھا۔مرکز کے زیر انتظام علاقے پانڈیچیری میں بھی بی جے پی اتحاد نے 18 نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کر لی، جہاں 33 رکنی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے 17 نشستیں درکار تھیں۔دوسری جانب کیرالہ میں کانگریس اتحاد نے 97 نشستیں حاصل کر کے واضح کامیابی حاصل کی، جبکہ 140 رکنی اسمبلی میں اکثریت کے لیے 71 نشستیں ضروری تھیں۔ اس نتیجے کے ساتھ بائیں بازو کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان نتائج نے بھارت میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے دی ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی نے مشرق اور شمال مشرق میں اپنی گرفت مضبوط کی ہے، تو دوسری طرف جنوبی بھارت میں نئی سیاسی قوتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔