معرکۂ حق میں پاکستان نے جہاں عسکری میدان میں بھرپور جواب دے کر اپنی دفاعی صلاحیت منوائی، وہیں سفارتی محاذ پر بھی اہم کامیابیاں سمیٹیں اور اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں منوایا۔
پاکستان کا آہنی دوست چین ہمیشہ کی طرح اس نازک مرحلے پر بھی پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے مئی 2025 میں پاکستانی قیادت سے رابطے کے دوران پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور قومی آزادی کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا، جبکہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی بھی مکمل تائید کی۔چین نے بھارتی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھانے کو افسوسناک قرار دیا، جس سے ایک بار پھر پاک چین دوستی کی گہرائی نمایاں ہوئی۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی میں بیجنگ کا واضح اور فوری سفارتی ردعمل پاکستان کے لیے ایک بڑی تقویت ثابت ہوا۔چین کے علاوہ ترکیہ، آذربائیجان اور سعودی عرب سمیت کئی اہم دوست ممالک نے بھی بھارتی جارحانہ بیانیے کے مقابلے میں پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی۔
ترکیہ اور آذربائیجان کی جانب سے کھل کر حمایت کے بعد یہ بات عالمی سطح پر زیر بحث رہی کہ پاکستان کو اہم علاقائی سفارتی پشت پناہی حاصل ہے۔ماہرین کے مطابق معرکۂ حق میں پاکستان کے اصولی، دوٹوک اور ذمہ دارانہ مؤقف کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاع کے حق کو اجاگر کیا بلکہ خطے میں امن، خودمختاری اور ذمہ دارانہ ردعمل کا بیانیہ بھی کامیابی سے دنیا کے سامنے رکھا۔تجزیہ کار اسے پاکستان کی سفارتی کامیابی، مؤثر عالمی رابطہ کاری اور سچائی کی جیت قرار دے رہے ہیں، جس نے ثابت کیا کہ جدید جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ اور سفارتی ایوانوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔