روس اور یوکرین کے متفرق یکطرفہ جنگ بندی اعلانات سامنے آگئے

روس اور یوکرین کے متفرق یکطرفہ جنگ بندی اعلانات سامنے آگئے

روس اور یوکرین کی جاری جنگ کے دوران مختلف تاریخوں پر جنگ بندی کے اعلان سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

 عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دوسری جنگِ عظیم کی فتح کی تقریبات کے موقع پر 8 اور 9 مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یوکرین بھی اس کی پیروی کرے گا، لیکن یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے بتایا ہے کہ انہیں کسی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، اس لیے یوکرین 5 اور 6 مئی کو اپنی علیحدہ جنگ بندی کرے گا۔زیلینسکی کا کہنا ہے کہ انسانی جانیں کسی بھی تقریب سے زیادہ اہم ہیں، اور روس کو سنجیدگی سے جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس دوران روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے 9 مئی کی تقریبات کے دوران حملہ کیا، تو کیف پر بڑا میزائل حملہ کیا جائے گا، اور شہریوں کو شہر چھوڑنے کی تنبیہ بھی جاری کی گئی ہے۔
مزید برآں، زیلینسکی کا دعویٰ ہے کہ روس نے اس بار پریڈ میں بھاری فوجی ساز و سامان نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ یوکرینی ڈرون حملوں کے خوف کی علامت ہے۔ روس نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور جنگ بندی کی تجویز دی، جبکہ یوکرین مستقل امن معاہدے کا مطالبہ کر رہا ہے۔یہ جنگ 2022ء میں شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور کروڑوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور صورتِ حال اب بھی کشیدہ ہے۔