قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ جہاں اسمبلیاں “فروخت” ہوتی ہوں وہاں عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے، اور پاکستان میں غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔
بلوچستان بار کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کے مسائل کا حل سچائی اور آئین کی بالادستی میں ہے، محض چند مخصوص طبقات یا شخصیات کو نظام میں شامل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وکلا برادری اچھی طرح جانتی ہے کہ 1973 کا آئین طویل جدوجہد کے بعد تشکیل پایا، اور کسی بھی ملک میں عدلیہ اور آئین کے ذریعے ہی پائیدار حل ممکن ہوتا ہے۔ ان کے مطابق بدقسمتی سے ملک میں بعض اوقات اسمبلیوں کی “بولیاں” لگتی ہیں، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ پاکستان میں غیر جانبدار انتخابات ہی سیاسی استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے وسائل پر سب سے پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے، اور اس اصول کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی ادارے یا فریق کے خلاف نہیں ہیں، اور ان کا مؤقف صرف آئین اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق ریاستی ادارے ضروری ہیں، لیکن ان کا استعمال کسی کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔اپوزیشن رہنما نے زور دیا کہ سیاسی راستے بند کرنے کے بجائے کھولنے چاہئیں تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو اور عوامی مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔